واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے ردِعمل دیتے ہوئے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔
کرسٹالینا جارجیوا نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ جنگ بندی ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم توانائی کے شعبے میں پیدا ہونے والے بحران اور عالمی سپلائی چین میں آنے والی رکاوٹوں کے مکمل خاتمے میں وقت درکار ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث توانائی اور دیگر ضروری اشیاء کی سپلائی کی فوری بحالی ممکن نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ توانائی کی فراہمی کو پہنچنے والا جھٹکا کس حد تک شدید رہا۔
دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے سلسلے میں واشنگٹن میں اہم سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی معاہدہ خطے میں استحکام کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے معاشی اثرات اور توانائی کی منڈیوں پر مرتب ہونے والے نتائج کا جائزہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔
