امریکا نے بھارت کے شہریوں کو غیرقانونی طور پر ملک میں داخل ہونے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر سخت مجرمانہ سزاؤں کی وارننگ جاری کر دی-
بھارت میں قائم امریکی سفارت خانے نے منگل کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی قوانین توڑنے والوں کو ’سنگین فوجداری سزاؤں‘ کا سامنا کرنا پڑے گا، اگر کوئی امریکی قانون توڑے گا تو اسے سخت قانونی نتائج بھگتنے ہوں گے،ٹرمپ انتظامیہ امریکا میں غیرقانونی ہجرت کے خاتمے اور سرحدوں و شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ یا پاکستان سمیت دیگر ممالک، جن میں افغانستان، شام، میانمار اور چین شامل ہیں، میں قائم امریکی مشنز نے اس نوعیت کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی۔
مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل،صوبے میں بارش اور برفباری
واضح رہے کہ جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ نے غیرقانونی ہجرت کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا جس کے تحت 2025 کے دوران بڑے پیمانے پر ڈی پورٹیشنز اور سخت پالیسیاں نافذ کی گئیں۔
فروری میں ایک امریکی فوجی طیارہ 104 بھارتی شہریوں کو ڈی پورٹ کر کے امرتسر لے کر پہنچا جو پہلی بار تھا کہ امریکا نے اس مقصد کے لیے فوجی طیارہ استعمال کیا اگرچہ اس سے قبل بھی بھارتی شہریوں کو واپس بھیجا جاتا رہا ہے تاہم فوجی طیارے کا استعمال غیر معمولی اقدام قرار دیا گیا۔
جونیئر اسکواش چیمپئن شپ : پاکستانی کھلاڑیوں نے ٹائٹل جیت لیا
امریکی حکومت نے ویزا پالیسیوں کو بھی مزید سخت کر دیا ہے ستمبر میں صدر ٹرمپ نے ایچ ون بی ہنرمند ویزا کے لیے ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کرنے کا حکم دیا یہ ویزا سائنس دانوں، انجینئرز اور کمپیوٹر ماہرین جیسے ہنرمند افراد کو امریکا میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویزا فیس میں اضافے کے انسانی اثرات ہو سکتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بھارت کی بڑی تجارتی تنظیم ناسکام نے بھی ایچ ون بی ویزا فیس کے نفاذ کے شیڈو ل کو تشویشناک قرار دیا ہے۔
تاجروں کا 16 جنوری کو ملک بھر کے چوک بند کرنے کا اعلان
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق 20 جنوری کے بعد سے اب تک تقریباً 80 ہزار نان امیگرنٹ ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں،ان میں سے تقریباً 16 ہزار کیسز شراب نوشی کے بعد ڈرائیونگ، 12 ہزار تشدد اور 8 ہزار چوری کے الزامات سے متعلق تھے۔ حکام کے مطابق یہ تین جرائم اس سال ویزا منسوخی کے تقریباً نصف کیسز پر مشتمل ہیں۔
جبکہ اگست میں امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا تھا کہ قیام کی مدت سے تجاوز اور قانون شکنی پر 6 ہزار سے زائد طلبہ کے ویزے منسوخ کیے گئے جن میں چند کیسز دہشت گردی کی حمایت سے بھی متعلق تھے۔
