وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس پر امریکا میں سنگین فوجداری الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی بیوی سیلیا فلورس کے خلاف متعدد سنگین الزامات عائد کر دیے الزامات کی یہ فہرست امریکی اٹارنی جنرل پیم بانڈی نے ایکس پر جاری اپنے پیغام میں شیئر کی کہا کہ ان الزامات میں نارکو- ٹیرازم (منشیات دہشت گردی)، کوکین اسمگلنگ، مشین گنز اور تباہ کن آلات رکھنے اور امریکا کے خلاف سازش کرنا شامل ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان الزامات پر امریکی عدالتوں کا جلد سامنا کرنا ہوگا یہ الزامات نیو یارک کے سدرن ڈسٹرکٹ میں درج کیے گئے ہیں جہاں انھیں فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔
وینزویلا کی صورتحال تشویشناک، یورپی یونین کی فریقین سے تحمل کی اپیل
2020 میں ہی نکولس مادورو اور کئی دیگر اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے تھے،جن میں الزام تھا کہ وہ “کارٹل آف دی سَنز” جیسی منشیات نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر امریکہ میں کوکین سپلائی کر رہے تھے جسے امریکا نے نارکو- ٹیرازم اور دہشت گردی سے منسوب کیا تھا ماضی میں امریکی محکمہ خزانہ نے وینزویلا کے صدر مادورو ان کے اہل خانہ اور ان کے قریبی ساتھیوں کو سزائیں اور مالی پابندیاں بھی عائد کی تھیں امریکا کی ان پابندیوں کا مقصد منشیات اور بدعنوانی سے منسلک نیٹ ورک کا خاتمہ تھا۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وینزویلا پر تابڑ توڑ حملوں اور امریکی فوجیوں کی کارروائی میں صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے ان دونوں کو گرفتار کرکے وینزویلا سے بیرون ملک بھی منتقل کردیا گیا ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ کس ملک بھیجا گیا ہے۔
تہران دشمن کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا،ایرانی سپریم لیڈر
البتہ امریکی وزرا اور سینیٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو امریکا منتقل کرکے مقدمہ چلایا جائے گا جس کی تصدیق امریکی اٹارنی جنرل کے بیان سے بھی ہوتی ہے۔
ریپبلکن امریکی سینیٹر مائیک لی کے بقول امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انھیں بتایا کہ وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو امریکی فورسز نے گرفتار کیا اور اب فوجداری الزامات کے تحت مقدمے کے لیے امریکا منتقل کیا جا رہا ہے،مائیک لی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مزید لکھا کہ وزیر خارجہ روبیو نے مزید بتایا کہ مادورو اب امریکی تحویل میں ہیں اور انھیں امریکا میں ٹرائل کا سامنا کرنا ہوگامادورو کی گرفتار ی کے بعد امریکا کو فی الحال وینزویلا میں مزید کسی کارروائی کی ضرورت نہیں رہی ہے۔
