Baaghi TV

وقت کی قدر روشن مستقبل کی کنجی ،تحریر :شمسہ رانی

کہتے ہیں کہ وقت وہ واحد دولت ہے ۔جو امیر و غریب حاکم و محکوم سب کو یکساں عطا کی جاتی ہے۔ مگر کامیاب وہی ہوتے ہیں۔ جو وقت کو دانشمندی سے خرچ کرنا جانتے ہیں افسوس کہ اج کے تیز رفتار دور میں وقت کی اہمیت کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ موبائل، فون ،سوشل میڈیاا ور غیر ضروری مصروفیات نے ہماری زندگی کے قیمتی لمحات کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔جبکہ یہی لمحات ہماری کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ کرتے ہیں ۔

تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے وقت کی قدر کی، انہوں نے علم، تحقیق ،معیشت و تہذیب کے میدانوں میں نمایاں مقام حاصل کیا ۔اس کے برعکس وقت کو معمولی سمجھنے والی قومیں ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئی ۔کامیاب انسان ہر دن کی ابتدا ایک واضح مقصد کے ساتھ کرتا ہے۔ اپنی ترجیحات متعین کرتا ہے۔ اور ہر لمحے کو اپنی منزل کے قریب پہنچنے کا ذریعہ بناتا ہے۔
۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم وقت کو صرف گھڑی کی سوئیوں سے نہ ناپیں بلکہ اسے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھیں ۔ا گر ہم اج اپنے وقت کی حفاظت کریں گے تو کل ہمارا مستقبل محفوظ ہوگا یاد رکھیں وقت کبھی کسی کا انتظار نہیں کرتا جو اس کے ساتھ چلنا سیکھ لیتا ہے۔ کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہےاور جو اسے ضائع کرتا ہے وہ اکثر حسرتوں کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ وقت کی پابندی صرف انفرادی کامیابی ہی نہیں بلکہ قومی ترقی کی بھی ضمانت ہے۔ جو معاشرے وقت کی قدر کرتے ہیں وہاں نظم و ضبط ذمہ داری اور احساس فرض پروان چڑھتا ہے ۔تعلیمی اداروں سے لے کر دفاتر عدالتوں اور کاروباری مراکز تک اگر وقت کی پابندی کو اپنی ثقافت کا حصہ بنا لیا جائے تو نہ صرف کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معاشی استحکام سماجی ہم انگی اور قومی وقار بھی مضبوط ہوتا ہے ۔ ہم یہی وہ شعور ہے جو ایک قوم کو دنیا میں باعزت مقام دلاتا ہے۔
وقت کی قدر دراصل اپنی ذات اپنے خوابوں اور اپنے انے والی نسلوں کی قدر ہے ۔یہی شعور ایک فرد کو باکردار، ایک معاشرے کو مہذب اور ایک قوم کو ترقی یافتہ بناتا ہے۔

More posts