ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال ایک بار پھر اس مقام پر کھڑی ہے جہاں سیاسی جماعتوں، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی نے عوام کو شدید بے یقینی سے دوچار کر رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی سیاست ایک دوسرے کو شکست دینے، گرفتار کرنے اور سڑکوں پر طاقت کے مظاہرے تک محدود رہے گی، یا ہم کبھی اس سوچ کی طرف بھی جائیں گے جہاں ریاستی ادارے مضبوط، سیاسی نظام مستحکم اور عوام کے مسائل ترجیح بن سکیں؟
موجودہ حکومت کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ اپنی آئینی مدت پوری کرنے کی کوشش کرے گی۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف اپنے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے مسلسل سیاسی جدوجہد کر رہی ہے، مگر اب تک وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ عمران خان کی طویل قید نے پاکستانی سیاست کو ایک مرتبہ پھر دو واضح سیاسی دھڑوں میں تقسیم کر رکھا ہے، جبکہ عام آدمی مہنگائی، روزگار، بجلی، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل کے حل کا منتظر ہے۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف 9 مئی کے واقعات سمیت مختلف مقدمات اور الزامات زیرِ بحث رہے ہیں۔ ریاستی اداروں اور خصوصاً افواجِ پاکستان سے متعلق حساس معاملات میں قانون اپنا راستہ اختیار کرے، یہی ایک مہذب ریاست کی بنیادی ضرورت ہے۔ تاہم کسی بھی مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالتوں کے ذریعے ہونا چاہیے، سیاسی نعروں یا عوامی دباؤ کے ذریعے نہیں۔
پاکستان کو اب انتقام کی سیاست سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ دہرانے کا زمانہ گزر چکا ہے۔ ایک ہی طرز کی سیاست، ایک ہی نوعیت کے الزامات اور ایک ہی قسم کی محاذ آرائی نے قوم کو تھکا دیا ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں واقعی عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہیں تو انہیں اپنے سیاسی اختلافات کو قومی مفاد کے دائرے میں لانا ہوگا۔
اصل مسئلہ صرف عمران خان کی رہائی یا کسی حکومت کی بقا نہیں؛ اصل مسئلہ پاکستان کے سیاسی نظام کی مضبوطی ہے۔ ایسا نظام جہاں حکومتیں آئینی طریقے سے بنیں اور اپنی مدت پوری کریں، اپوزیشن کو سیاسی اور آئینی جدوجہد کا حق حاصل ہو، ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں، عدالتیں آزادانہ فیصلے کریں اور عوام کو اپنے ووٹ کی حقیقی طاقت محسوس ہو۔
یہ کہنا کہ عمران خان لازماً مزید جیل میں رہیں گے، سیاسی پیش گوئی تو ہو سکتی ہے مگر حتمی فیصلہ نہیں۔ قید کی مدت عدالتوں کے فیصلوں، قانونی مراحل اور آئینی تقاضوں سے طے ہوتی ہے۔ اسی طرح حکومت کی مدت بھی آئین اور پارلیمانی نظام کے مطابق طے ہونی چاہیے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت کی خواہش کے مطابق۔
پاکستان میں تبدیلی ناگزیر ہے، مگر یہ تبدیلی انتشار، تصادم اور انتقام کے ذریعے نہیں بلکہ آئینی، جمہوری اور پُرامن طریقے سے آنی چاہیے۔ ہمیں شخصیات کے بجائے اداروں، جماعتوں کے بجائے نظام اور وقتی سیاسی فائدے کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک دوسرے کو ختم کرنے کے بجائے سیاسی میدان میں مقابلہ کریں۔ عوام فیصلہ کریں کہ کون بہتر حکمرانی کر سکتا ہے۔ اگر کوئی رہنما قانون توڑتا ہے تو عدالت فیصلہ کرے، اور اگر کوئی حکومت عوام کی توقعات پوری نہیں کرتی تو اگلے انتخابات میں عوام اسے مسترد کر دیں۔
پاکستان کو ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں کسی سیاسی رہنما کی مقبولیت ریاست سے بڑی نہ ہو، کسی حکومت کی طاقت آئین سے بالاتر نہ ہو اور کسی ادارے کا احترام سیاسی وابستگی سے مشروط نہ ہو۔نظام بدلنے کی ضرورت ضرور ہے، لیکن نظام کو آئین، قانون، جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ کے ذریعے بدلنا ہوگا۔ یہی راستہ پاکستان کو سیاسی کشمکش سے نکال کر استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔
