وائٹ ہاؤس نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
امریکی صدارتی ترجمان کیرولین لیویٹ نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں اور یہ بات تمام فریقین تک پہنچا دی گئی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ بیان کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کے ابھی مزید اہداف باقی ہیں۔
جب ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ لبنان کو بھی جنگ بندی میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بات چیت جاری رہے گی، تاہم فی الحال لبنان اس معاہدے میں شامل نہیں ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں، جس میں اسرائیل کے لبنان پر حملوں کو جنگ بندی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا، ترجمان نے دوبارہ نیتن یاہو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ماہرین کے مطابق لبنان کو جنگ بندی سے باہر رکھنا خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور امن کوششوں کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دیگر محاذوں پر جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔
لبنان جنگ بندی کا حصہ نہیں, وائٹ ہاؤس کا مؤقف
