Baaghi TV

پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز ناکام اور غیر مؤثر کیوں ؟تحریر : عابد محمود عابد

حال ہی میں سیالکوٹ کی ایک پراِئیویٹ سکولوں کی تنظیم کے سربراہ کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا کہ جس میں انہوں نے کہا پاکستان اور خصوصی طور پر پنجاب میں پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز اس لیے ناکامی کا شکار ہیں کہ ہر شہر میں پرائیویٹ سکولوں کی کئی کئی تنظیمیں بن چکی ہیں اور انکے عہدیدار بھی بے شمار ہیں ،

پہلے تو یہ جن صاحب کا ویڈیو بیان ہے، انکی تعریف بنتی ہے کہ ایک تنظیم کا عہدیدار ہونے کے باوجود انہوں نے ناکامی کو تسلیم کیا ، ورنہ یہاں تو نہ کوئی سچ بولنے اور نہ سچ سننے کے لیے تیار ہوتا ہے ، ہاں البتہ انہوں نے ناکامی کی صرف ایک وجہ بیان کی ہے ، اسکی اور بھی بہت ساری وجوہات ہیں جن کی نشاندہی میں اس تحریر میں کرنے کی کوشش کروں گا ، میں بھی پرائیویٹ سکولوں کی تنظیموں کے ساتھ کام کرچکا ہوں اور تنظیموں میں موجود ہوتے ہوئے میں اس حوالے سے پہلے بھی کئی تحریریں رقم کر چکا ہوں ، ناکامی کی ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ تنظیموں کے کرتا دھرتا افراد ان تحریروں اور ان میں پیش کردہ تجاویز کو مثبت لینے کی بجائے ناراض ہوتے ہیں ، ایک مرتبہ تو ایسا بھی ہوا کہ ایک تنظیم کے صدر نے مجھے ایک تحریر سوشل میڈیا سے ڈیلیٹ کرنے کو کہا لیکن میں نے ایسا کرنے کی بجائے تنظیم کو چھوڑنا بہتر سمجھا ،

بہرحال موضوع کی جانب واپس آتے ہوئے اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز کی ناکامی کی کون کون سی دیگر بڑی بڑی وجویات ہیں ،
میرے خیال میں تو سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان تنظیموں کے بیشتر عہدیدار اپنے عہدوں کو پرائیویٹ سکولوں کے مفادات کے تحفظ کی بجائے اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں ، وہ اپنے عہدوں کو سرکاری افسران سے تعلقات بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں ، وہ محکمہ تعلیم کے کسی بڑے افسر کے ساتھ ایک فوٹو سیشن کو ہی ایک بڑی کامیابی سمجھتے ہیں ،
بات صرف محکمہ تعلیم تک محدود نہیں رہتی بلکہ دوسرے محکموں کے افسران سے روابط قائم کرتے ہیں تاکہ ذاتی فوائد حاصل کیے جا سکیں ، اسکی ایک مثال میں یہاں پیش کروں گا کہ میرے شہر ڈسکہ کے سول ہسپتال کے نئے ایم ایس نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تو پرائیویٹ سکولوں کی ایک تنظیم کا ایک وفد گلدستے لے کر انکو مبارکباد دینے پہنچ گیا ، فوٹو سیشن ہوا اور اسکی چرچا سوشل میڈیا پر کی گئی ، اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سارے عمل کا پرائیویٹ سکولوں کو کیا فائدہ ہوا ؟ کیا تنظیم کے عہدیداروں نے ایم ایس سول ہسپتال سے کوئی یقین دہانی لی کہ پرائیویٹ سکولز والوں کو ترجیحی بنیادوں ہر علاج معالجے کی بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں گی؟ ظاہری سی بات ہے کہ اس سارے عمل کا تعلق پرائیویٹ سکولوں کے مفادات سے ہرگز نہیں تھا اور مقصد ذاتی تعلقات بنانا تھا ، حالانکہ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز کا اصل مقصد تو یہی ہونا چاہیے کہ پرائیویٹ سکولوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے اور کسی مشکل وقت میں انکی مدد کی جائے لیکن حقیقت میں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ پرائیویٹ سکولز والوں کو ان تنظیموں سے کچھ فوائد حاصل ہوئے ہوں ،

ان تنظیموں کی ناکامی کی ایک اور وجہ ہے جس کی نشادہی میں یہاں کرنا چاہوں گا کہ بیشتر تنظیموں کے جو بڑے بڑے عہدیدار ہوتے ہیں ، وہ مقامی سطح پر اپنی تنظیم کی ترقی کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اس کی بجائے انکی نظر اپنی ذاتی ترقی پر ہوتی ہے وہ تحصیل کے بعد ضلعی ، ڈویژنل ، صوبائی اور مرکزی لیول پر کوئی عہدہ حاصل کرنے کے چکر میں لگے رہتے ہیں اور اسی چکر میں مقامی تنظیم کو کمزور حالت میں چھوڑ دیتے ہیں ، یہ بھی کہ زیادہ تر عہدیدار بڑے سکولوں سے متعلقہ ہوتے ہیں اور وہ کم فیسوں والے چھوٹے سکولوں کے مسائل کا ادراک نہیں کر پاتے اور نہ ہی انکے مسائل حل کرنے میں ، انکی مدد کرنے میں کوئی بھی دلچسپی ظاہر کرتے ہیں ،

بہرحال پرائیویٹ سکولوں سے متعلقہ سب مسائل کا حل اسی صورت میں ممکن ہے کہ لوگ اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مسجد تعمیر کرنے بجاِئے متحد ہوکر نجی تعلیمی اداروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر مؤثر آواز بلند کریں ، اسی صورت میں پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز کے اوپر سے ناکام اور غیر مؤثر ہونے کا لیبل ہٹ سکے گا ،

More posts