Baaghi TV

وہ رشتہ جو روٹھ گیا،تحریر: مبراء عبدالقیوم

کچھ رشتے ختم نہیں ہوتے، بس روٹھ جاتے ہیں…
اور ان کے روٹھ جانے کے بعد زندگی میں ایک ایسی خاموشی اترتی ہے، جسے کوئی دوسرا رشتہ پُر نہیں کر پاتا ہے۔
وہ بھی تو میری اپنی تھی۔
کبھی میری خوشی میں سب سے پہلے مسکراتی تھی۔ میری اداسی کو میرے بولنے سے پہلے سمجھ لیتی تھی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہوتی، پھر خود ہی منا بھی لیا کرتی تھی۔ ہمیں یقین تھا کہ ہمارے درمیان چاہے کتنی ہی غلط فہمیاں آ جائیں، یہ رشتہ کبھی کمزور نہیں ہوگا۔ لیکن ہم دونوں یہ بھول گئے تھے کہ بعض اوقات الفاظ، رشتوں سے زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں۔
ایک دن معمولی سی بات نے دلوں میں فاصلے پیدا کر دیے۔ میں اپنی بات پر قائم رہی، وہ اپنی خاموشی پر قائم رہی۔ دونوں کے پاس شکوے تھے، مگر پہل کرنے کی ہمت کسی کے پاس نہیں تھی۔ دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدلتے گئے۔
میں اکثر اس کا نام موبائل پر دیکھتی، انگلی رابطے کے بٹن پر رک جاتی ہے… پھر دل کہتا، "اگر اسے واقعی پروا ہوتی تو وہ خود رابطہ کرتی۔”
شاید وہ بھی یہی سوچتی ہوگی۔ یوں ایک خوبصورت رشتہ انا کی خاموش دیوار کے پیچھے دفن ہوتا چلا گیا۔
آج بھی کبھی کوئی پرانی بات یاد آتی ہے تو دل بے اختیار کہتا ہے، کاش! اس دن میں اپنی انا ہار جاتی… تو شاید میرا اپنا رشتہ جیت جاتا۔ ہم اکثر اپنوں کو منانے میں اس لیے دیر کر دیتے ہیں کہ ہمیں لگتا ہے وہ کہیں نہیں جائیں گے۔ لیکن زندگی ہر رشتے کو ہمیشہ کا وقت نہیں دیتی ہے۔
کچھ لوگ دور جا کر بھی دل کے قریب رہتے ہیں، اور کچھ رشتے پاس ہوتے ہوئے بھی بہت دور ہو جاتے ہیں۔ وہ رشتہ آج بھی میرے دل میں زندہ ہے۔۔۔۔۔۔بس مجھ سے روٹھا ہوا ہے۔
اور شاید کسی دن ہم دونوں اپنی اپنی انا کی دیوار گرا کر ایک دوسرے سے صرف اتنا کہہ دیں: "چلو، جو ہوا اسے بھول جاتے ہیں…ہم نے ایک دوسرے کو بہت یاد کیا ہے۔”

More posts