ایک وقت آئے گا جب دنیا کسی ایسے وائرس کی زد میں نہیں ہوگی جو انسانوں کو سڑکوں پر گرا دے، اسپتالوں کو بھر دے اور شہروں میں سائرن بجا دے۔
لوگ مرتے ضرور ہوں گے، مگر اتنی بڑی تعداد میں نہیں۔
بازار کھلے ہوں گے، اسکول آباد ہوں گے، ہوائی جہاز اڑ رہے ہوں گے، دفاتر میں کام ہو رہا ہوگا اور بظاہر دنیا بالکل معمول کے مطابق چل رہی ہوگی۔
مگر پھر بھی دنیا بدل رہی ہوگی۔
خاموشی سے۔
ایک دن کسی ہسپتال کے گائنی وارڈ میں ڈاکٹر محسوس کرے گا کہ حمل تو ٹھہر رہے ہیں، مگر مکمل نہیں ہو رہے۔ ایک کے بعد ایک عورت اپنا بچہ کھو رہی ہوگی۔ شروع میں اسے محض اتفاق سمجھا جائے گا۔ پھر چند شہر، پھر کئی ملک، پھر پوری دنیا سے ایسی خبریں آنے لگیں گی۔
حمل ٹھہرنے کی شرح کم ہوگی۔
حمل ضائع ہونے کی شرح بڑھتی جائے گی۔
اور سب سے خوفناک بات یہ ہوگی کہ اس کی وجہ کسی کو معلوم نہیں ہوگی۔
تحقیق شروع ہوگی۔ لاکھوں ٹیسٹ ہوں گے۔ خون، پانی، خوراک، ہوا، ادویات، ماحول، جینیات، سب کچھ کھنگالا جائے گا۔ سائنس دان اپنی پوری زندگی اس ایک سوال کے پیچھے لگا دیں گے:
آخر انسان پیدا ہونا کیوں کم ہو رہا ہے؟
دنیا شاید پہلی مرتبہ کسی ایسی وبا کا سامنا کر رہی ہوگی جس میں مریض زندہ ہوگا، مگر آنے والی نسل بیمار ہوگی۔
یہ بیماری شاید انسان کو مار نہیں رہی ہوگی۔
یہ شاید انسان کو آگے بڑھنے سے روک رہی ہوگی۔
چند سال بعد اعداد و شمار سامنے آئیں گے۔
پہلے سو بچوں کے بجائے نوے۔
پھر اسی۔
پھر ستر۔
اور ایک وقت آئے گا جب کچھ ملکوں میں اسپتالوں کے زچگی وارڈ، جو کبھی مسلسل شور سے بھرے رہتے تھے، غیر معمولی طور پر خاموش ہونے لگیں گے۔
اسکولوں میں داخلے کم ہوں گے۔
کھلونوں کی دکانیں بند ہونے لگیں گی۔
نئے گھروں کی تعمیر کم ہو جائے گی۔
اور حکومتیں پہلی مرتبہ اس سوال پر پریشان ہوں گی کہ اگر آج آبادی کم ہو رہی ہے تو بیس سال بعد ان ملکوں میں کام کون کرے گا؟
ریٹائر ہونے والوں کی تعداد بڑھتی جائے گی، مگر ان کی جگہ لینے والے نوجوان کم ہوتے جائیں گے۔
دنیا میں ایک عجیب بحران پیدا ہوگا۔
لوگ زیادہ نہیں مر رہے ہوں گے، لیکن لوگ کم پیدا ہو رہے ہوں گے۔
یہ فرق شاید ہماری موجودہ سوچ سے کہیں زیادہ خطرناک ہو۔
کیونکہ موت کو ہم گن سکتے ہیں۔
پیدائش کو بھی گن سکتے ہیں۔
مگر ایک پیدا نہ ہونے والے انسان کا نقصان گننا ممکن نہیں۔
وہ بچہ جو پیدا ہی نہیں ہوا، وہ کسی یونیورسٹی میں داخل نہیں ہوگا، کوئی کاروبار شروع نہیں کرے گا، کوئی نئی دوا ایجاد نہیں کرے گا، کسی سے محبت نہیں کرے گا، کسی کی جان نہیں بچائے گا۔
وہ صرف ایک خالی جگہ ہوگا۔
اور شاید یہی اس بحران کی سب سے خوفناک حقیقت ہوگی۔
دنیا میں عمارتیں کھڑی رہیں گی مگر ان میں رہنے والے کم ہوتے جائیں گے۔
ٹیکنالوجی ترقی کرتی رہے گی مگر اسے استعمال کرنے والے کم ہوں گے۔
شہر روشن رہیں گے مگر ان کی گلیوں میں بچوں کی آوازیں کم ہوتی جائیں گی۔
پھر شاید کسی دن ایک بوڑھا شخص اپنے پوتے کو دیکھ کر سوچے گا کہ اس کی نسل کتنی بڑی تھی۔
اس کے والدین کے کتنے بہن بھائی تھے۔
اس کے اپنے کتنے دوست تھے۔
اور اب؟
اس کے پوتے کے کلاس روم میں صرف چند بچے ہوں گے۔
تب انسان کو پہلی مرتبہ احساس ہوگا کہ آبادی کا بحران ہمیشہ لاشوں سے شروع نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی دنیا کا سب سے بڑا سانحہ یہ ہوتا ہے کہ نئی زندگیاں آنا کم ہوجاتی ہیں۔
اور شاید اس وقت دنیا کرونا جیسے وائرس سے نہیں ڈر رہی ہوگی۔
دنیا ایک ایسے دشمن سے لڑ رہی ہوگی جس کا چہرہ نظر نہیں آتا۔
ایک ایسا دشمن جو کسی انسان کو قتل نہیں کرتا۔
بس آنے والے انسان کو دنیا میں آنے نہیں دیتا۔
اور تب شاید ہماری سب سے بڑی خواہش یہ نہیں ہوگی کہ لوگ مرنا بند کر دیں۔
بلکہ یہ ہوگی کہ بچے دوبارہ پیدا ہونا شروع ہوجائیں۔
