Baaghi TV

مکہ معاہدے سے کسی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں: طاہر اشرفی

tahir ashraf

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام ہم سب کے لیے انتہائی عزیز ہے، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے کسی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔

اپنے بیان میں حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدے کے اثرات واضح ہیں اور اسی تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے گریٹر اسرائیل کے نعرے میں بھی کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا کو اپنی اجتماعی قوت اور اتحاد کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔

چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ سعودی عرب نے ایران کو یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ سعودی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی کے لیے نہیں بلکہ دفاع، امن اور استحکام کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر نیٹو کی طرز پر یورپی ممالک متحد ہوسکتے ہیں تو اسلامی دنیا بھی باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات کے لیے متحد ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدے کے دروازے دیگر اسلامی ممالک کے لیے بھی کھلے ہیں اور کئی ممالک اس میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سوچ رہی ہے کہ مسلم امہ کو معاشی طور پر مضبوط بنایا جائے، اس لیے مکہ معاہدے کو صرف دفاعی معاہدے کے طور پر نہیں بلکہ بڑے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مکہ معاہدہ مسلم امہ کے اتحاد اور اجتماعی سلامتی کی جانب اہم قدم ہے، جس سے دفاعی تعاون کے ساتھ ٹیکنالوجی، تربیت، مشترکہ پیداوار اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

More posts