ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات، ایران سے جنگ بندی، شام اور لبنان کی صورتحال سمیت اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترک صدارتی شعبہ مواصلات کے مطابق صدر اردوان نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے امریکی فیصلے کو ’مثبت پیش رفت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متنازع امور کا معقول اور سفارتی حل ممکن ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ترکیہ خطے میں تنازعات کے حل کے لیے تعمیری اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔
صدر اردوان نے شام کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہاں مستقل استحکام کا قیام پورے خطے کے لیے ایک اہم کامیابی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ شام کے استحکام اور تعمیر نو کے لیے اپنی حمایت بلا تعطل جاری رکھے گا جبکہ انہوں نے لبنان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ وہاں حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنا ضروری ہے۔
صدر اردوان نے انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس اجلاس کو ہر لحاظ سے کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک مسجد پر حالیہ حملے پر صدر ٹرمپ سے تعزیت بھی کی اور کہا کہ ترکیہ کسی بھی مذہبی گروہ کے خلاف نفرت انگیز جرائم کی مخالفت کرتا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے امریکی ریاست میری لینڈ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اردوان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو ’بہت اچھی‘ قرار دیا اور ترک صدر کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو سراہا ٹرمپ نے کہا یہ اچھی بات ہے کہ میرے تعلقات بعض مضبوط رہنماؤں کے ساتھ ہیں، اردوان ایک مضبوط شخصیت ہیں اور میرے ان کے ساتھ ایسے تعلقات ہیں جیسے کسی اور کے نہیں، انہوں نے اچھا کام کیا ہے، صدر اردوان امریکا کے اہم اتحادی رہے ہیں، اگرچہ بعض لوگ اس پر شبہ کرتے ہیں، لیکن ان کے بقول ترکیہ ایک بہترین اتحادی ثابت ہوا ہے اور ترک عوام اپنے صدر کا بے حد احترام کرتے ہیں
