افغانستان میں طالبان حکومت نے ہر قسم کے مظاہروں پر مکمل پابندی عائد کر دی۔
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق طالبان کی وزارتِ انصاف نے 22 اگست کو پولیس سے متعلق نیا قانون جاری کیا، جسے سرکاری گزٹ میں بھی شائع کیا گیا ہے۔ قانون کی منظوری طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوند زادہ نے دی ہے، طالبان کی وزارتِ داخلہ کو اس قانون پر عملدرآمد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
نئے قانون میں پولیس کے لیے ’شرطہ‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، قانون 53 دفعات پر مشتمل ہے اور اس کی دفعہ 50 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’پورے افغانستان میں تمام مظاہرے ممنوع ہیں،قانون میں ’’شرطہ‘‘ یعنی پولیس کے فرائض اور اختیارات کے ساتھ ساتھ سکیورٹی حکام، عدالتوں کی ذمہ داریاں اور افراد پر عائد پابندیوں کی وضاحت کی گئی ہے۔
پولیس کو سکیورٹی اور امن و امان برقرار رکھنے، ہوائی اڈوں اور ان کی تنصیبات کی حفاظت، غیر مجاز اسلحے اور گولہ بارود رکھنے و استعمال کی روک تھام، حادثات اور ہنگامی صورتحال میں لوگوں کو بچانے کے اقدامات کرنے اور عوام کی املاک و اثاثوں کے تحفظ سمیت مختلف ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
قانون میں ’’صاحب الشرطہ‘‘ یا سکیورٹی اہلکار کی تعریف ایسے شخص کے طور پر کی گئی ہے جسے طالبان کے سربراہ کی جانب سے وزارتِ داخلہ میں دارالحکومت اور صوبوں میں سکیورٹی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مقرر کیا جاتا ہے، طالبان نے گزشتہ پانچ برس کے دوران عوامی مظاہروں کی حوصلہ شکنی کی ہے اور مختلف مواقع پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، گرفتاریوں، تشدد اور فائرنگ کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
طالبان اس سے قبل سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کر چکے ہیں ، طالبان حکومت سیاسی جماعتوں و تحریکوں کے آزادانہ طور پر کام کرنے کو تسلیم نہیں کرتی۔
