وزیر اطلاعات سندھ نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیرکے انتخابی نتائج کو مستقبل میں فارم 47 پلس کے نام سے جانا جائےگا۔
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ ن پر شدید تنقید کی ہے،شرجیل میمن نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ ن کو تاریخی دھاندلی کے ذریعے ایک اور جعلی مینڈیٹ ملا ہےعوام نے 2024 اور 2026 میں مسلم لیگ ن کومسترد کردیا، اس کے باوجود اسے اقتدارتک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ جعلی مینڈیٹ مسلم لیگ ن کو ناجائز حکومتیں تو دے سکتا ہے لیکن عوامی حمایت اور مقبولیت کبھی نہیں مل سکتی،عوام کے فیصلے کو کسی بھی طریقے سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت عوامی حمایت ہوتی ہے مسلم لیگ ن کو انتخابی نتائج کے ذریعے جو مینڈیٹ ملا ہے، وہ عوامی تائید کا عکاس نہیں،انتخابی عمل میں شفافیت اور عوام کے ووٹ کی اہمیت کو یقینی بنانا جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کسی سیاسی جماعت سے دشمنی نہیں چاہتی، نہ کبھی کی ہے اور سیاسی مخالفت کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے، اس اصول پر پیپلز پارٹی آج بھی قائم ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کا یہی اصول تمام سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کو اپنانا ہوگا،ہ کسی انتخابی عمل پر سنجیدہ سوالات اٹھیں تو انہیں شفاف اور غیر جانب دار طریقے سے حل کیا جانا چاہیے-
ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کا گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات کا موازنہ کرنا درست نہیں،پیپلز پارٹی نے جہاں عوام کا مینڈیٹ تسلیم کیا، وہاں انتخابی عمل پر تحفظات پر اپنے مؤقف کا اظہار بھی کیا اور تحفظات جمہوری سیاست کا حصہ ہوتے ہیں، اسے محض دھاندلی کا الزام قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،پیپلز پارٹی نے ہمیشہ وفاق کی تمام اکائیوں کے حقوق، جمہوری اداروں کی مضبوطی اور ووٹ کے تقدس کی بات کی، ہمیں سیاسی مخالفت سے کوئی مسئلہ نہیں، مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب طاقت کو عوامی مینڈیٹ کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔
