امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران میں مزید رکنے کی کوئی وجہ نہیں رہی، جنگ ختم کرنے کیلئے ڈیل ضروری نہیں، 2 سے 3 ہفتوں میں ایران سے نکل جائیں گے، ممکن ہے اس سے بھی پہلے جنگ ختم ہو۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں رجیم چینج پہلے ہی ہوچکی ہے لیکن رجیم چینج امریکا کا مقصد نہیں تھا بلکہ فوجی کارروائی کا اصل مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا اور یہ ہدف حاصل کرلیا گیا، نئی قیادت کم شدت پسند ہے۔ ایران کو دوبارہ تعمیر کرنے میں 15 سے 20 سال لگیں گے، ایران کے پاس نہ نیوی ہے نہ فوج اور نہ ایئر فورس، واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں جو کچھ ہوگا اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں، فرانس، چین اور دیگر ممالک کو تیل چاہیے تو جائیں اور ہرمز سے تیل لے لیں، ان ممالک کو اپنا دفاع کرنا چاہئے۔صدر ٹرمپ کل امریکی قوم سے خطاب کریں گے جس میں ایران جنگ سے متعلق اہم اعلان متوقع ہے۔
دوسری جانب ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے،ڈی جی نرسنگ سسٹم آرگنائزیشن کے مطابق ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں کم از کم 10 نرسیں شہید ہوئی ہیں،اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان نرسوں کو ڈیوٹی کے دوران نشانہ بنایا گیا،غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی و اسرائیلی حملوں میں طبی عملے کے کئی ارکان زخمی بھی ہوئے ہیں۔
