نئی دہلی: تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے 69 سالہ بنگسن جان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ الزام ہے کہ اس نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بھارت بھر کے 300 سے زائد لگژری ہوٹلوں کو جعلی شناختوں کے ذریعے دھوکہ دیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کبھی خود کو غیر ملکی سیاحوں کا گائیڈ، کبھی انگریزی کا استاد اور کبھی یوگا ٹرینر ظاہر کر کے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام کرتا تھا۔ وہ کئی روز تک ہوٹل کی سہولیات سے فائدہ اٹھاتا، پھر بل ادا کیے بغیر فرار ہو جاتا۔ بعض مواقع پر وہ ہوٹل کا قیمتی سامان بھی ساتھ لے جاتا تھا۔اس کا تازہ ترین شکار رائے پور کا ایک فائیو اسٹار ہوٹل تھا، جہاں اس نے دو دن قیام کیا، تقریباً 63,755 روپے کا بل ادا کیے بغیر روانہ ہو گیا اور 1.48 لاکھ روپے مالیت کا لیپ ٹاپ بھی لے گیا۔ہوٹل کی شکایت پر پولیس نے تحقیقات شروع کیں اور موبائل فون ریکارڈز اور دیگر تکنیکی شواہد کی مدد سے ملزم کو صرف 72 گھنٹوں میں اوڈیشہ کے شہر بھونیشور سے گرفتار کر لیا۔ پولیس نے چوری شدہ لیپ ٹاپ بھی برآمد کر لیا۔
تفتیش کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ وہ 1990 سے اسی طریقۂ واردات کے ذریعے ملک بھر کے 300 سے زائد لگژری ہوٹلوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی وہ مختلف ریاستوں میں متعدد مقدمات میں گرفتار ہو چکا ہے اور کئی برس جیل میں گزار چکا ہے۔پولیس کے مطابق ملزم نے تہاڑ جیل میں قید کے دوران بدنام زمانہ دھوکے باز چارلس شوبھراج کے طریقۂ واردات سے متاثر ہو کر جعلی شناختوں کا استعمال شروع کیا۔ پولیس اب اس کے خلاف مختلف ریاستوں میں درج مقدمات کی تفصیلات جمع کر رہی ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
