Baaghi TV

ڈیٹنگ ایپ پر محبت کا جھانسہ،500 خواتین لٹ گئیں،ملزم گرفتار

نئی دہلی: بھارت میں آن لائن ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے خواتین کو محبت اور شادی کا جھانسہ دے کر کروڑوں روپے ہتھیانے والے ایک بڑے فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔

دہلی سائبر پولیس نے ایسے شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس پر 500 سے زائد خواتین سے تقریباً 20 کروڑ روپے لوٹنے کا الزام ہے۔پولیس کے مطابق ملزم آنند کمار، جو مغربی بنگال کے ضلع نارتھ 24 پرگنہ کا رہائشی ہے، مختلف جعلی شناختوں کے ساتھ ڈیٹنگ اور شادی کی ویب سائٹس پر خواتین سے رابطہ کرتا تھا۔ وہ کبھی خود کو ڈاکٹر، کبھی بزنس مین، فلم پروڈیوسر یا وکیل ظاہر کرتا تھا۔تحقیقات کے مطابق ملزم پہلے خواتین کا اعتماد حاصل کرتا، ان سے جذباتی تعلق قائم کرتا اور شادی کے وعدے کرتا تھا۔ بعض متاثرہ خواتین کو ماڈلنگ کے مواقع اور معروف تعلیمی اداروں میں داخلے کا لالچ بھی دیا گیا۔اعتماد قائم ہونے کے بعد ملزم مختلف بہانوں سے رقم مانگتا تھا، جن میں طبی ایمرجنسی، کاروباری نقصان یا خاندانی مسائل شامل تھے۔ جیسے ہی رقم ملتی، وہ رابطہ ختم کر دیتا تھا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک خاتون نے شکایت درج کروائی کہ "ویبھوو اروڑا” نامی انسٹاگرام پروفائل سے جڑے شخص نے اسے تقریباً 7 لاکھ روپے کا چونا لگایا۔ دونوں کی ملاقات ایک ڈیٹنگ ایپ پر ہوئی تھی، بعد ازاں گفتگو انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر منتقل ہو گئی۔شکایت کنندہ کے مطابق ملزم نے شادی کا وعدہ کیا، مختلف بہانوں سے رقم بٹوری، اور جب واپسی کا مطالبہ کیا گیا تو رابطہ منقطع کر دیا۔ بعد میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ "ویبھوو اروڑا” انتقال کر چکا ہے۔ پولیس نے خصوصی ٹیم تشکیل دے کر موبائل نمبرز، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور مالی لین دین کا جائزہ لیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم بیک وقت کئی جعلی شناختوں سے خواتین سے رابطے میں رہتا تھا۔وہ ڈاکٹر روہت بہل، ترون، آنند شرما اور حتیٰ کہ "شیکھا” کے نام سے بھی پروفائلز چلاتا تھا۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ متعدد موبائل فونز اور مختلف سم کارڈز استعمال کرتا تھا۔

پولیس نے ملزم کے قبضے سے 4 موبائل فونز، 8 سم کارڈز، 3 ڈیبٹ کارڈز اور فراڈ کی رقم سے خریدے گئے سونے کے کنگن اور چینز برآمد کر لی ہیں۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ لوٹی گئی رقم کا بڑا حصہ آن لائن گیمنگ اور شاہانہ طرزِ زندگی پر خرچ کیا گیا۔پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف دہلی اور غازی آباد میں بھی اسی نوعیت کے مقدمات پہلے سے درج ہیں، جبکہ اس نیٹ ورک میں مزید افراد کی شمولیت اور مکمل مالی ریکارڈ کی جانچ جاری ہے۔

More posts