کویت کی وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ بدھ کی علی الصبح کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملے میں کم از کم 63 افراد زخمی ہو گئے، جن میں ایئرپورٹ کا عملہ اور مسافر بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ متعدد افراد کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہنگامی سرجریز بھی کی گئیں۔
وزارتِ صحت کے ترجمان ڈاکٹر عبداللہ السند کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ واقعے کے فوراً بعد ملک بھر میں ایک جامع ہنگامی طبی منصوبہ فعال کر دیا گیا۔ ان کے مطابق طبی عملے نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے تمام زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا اور اب تک سات ہنگامی اور پیچیدہ آپریشن کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں۔
کویتی وزارتِ خارجہ کے مطابق حملے میں ایک شخص ہلاک بھی ہوا، جبکہ کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل ون سمیت کئی اہم تنصیبات اور سفارتی مقامات کو نقصان پہنچا ہے۔ حکام نقصان کا مکمل تخمینہ لگانے اور متاثرہ تنصیبات کی بحالی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ کویت میں موجود امریکی فوجی اڈے اور عسکری تنصیبات اس کی جوابی کارروائیوں کے دائرے میں آتے ہیں۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کویت کی سرزمین کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہا ہے، جس کے باعث وہاں موجود امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
حملے کے بعد کویت میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں جبکہ مختلف سرکاری ادارے صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ طبی مراکز، ہنگامی امدادی ٹیمیں اور سول دفاع کے ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
علاقائی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک اور سنگین مثال ہے، جس کے اثرات نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی سفارتی اور معاشی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
ایرانی حملے میں 63 افراد زخمی، کویت میں ہنگامی طبی اقدامات
