Baaghi TV

حامد سعید کاظمی کی بریت کے خلاف اپیل آئیندہ سماعت تک ملتوی

Hamid kazmi

سابق وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کی بریت کے خلاف اپیل آئیندہ سماعت تک ملتوی

سپریم کورٹ میں سابق وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کی بریت کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی جبکہ سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے کی ہے اور دوران سماعت ایف آئی اے کی جانب سے کوئی بھی کیس کی پیروی کیلئے پیش نہ ہوا ہے جبکہ عدالتی حکم پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان پیش ہوئے ہیں.

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں بتایا کہ کیس کے حوالے سے ایف آئی اے میں سے کسی نے رابطہ نہیں کیا. وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں بتایا کہ دوسرے شریک ملزم احمد فیض کے کیس میں بھی سپریم کورٹ میں کوئی پیش نہیں ہوا تھا. وکیل سردار لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے عدم پیروی پر ایف آئی اے کا کیس خارج کردیا تھا. جبکہ وکیل نے کہا ایف آئی اے کو کیس میں کوئی دلچسپی نہیں.
مزید یہ بھی پڑھیں؛
دوسرا ٹیسٹ؛ نیوزی لینڈ کا پاکستان کیخلاف بیٹنگ کا فیصلہ
متنازع ٹوئٹ کیس؛ اعظم خان سواتی کے بیٹے نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔
ڈومیسٹک کرکٹرز کی سن لی گئی، پیر سے بقایاجات کی ادائیگی کا کام شروع
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج پھر ہوگا،ہوں گے بڑے فیصلے
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ ایف آئی اے پیش نہ ہونے پر ہم کیا کہہ سکتے ہیں اپکی ہی حکومت ہے. عدالت نے وکلا کو تیاری کیلئے مہلت دیتے ہوئے سماعت آئیندہ ہفتے تک ملتوی کردی جبکہ اس سے قبل ایک سماعت میں طیف کھوسہ نے کہا تھا کہ حامد سعید كاظمی كی كوششوں سے سعودی حكومت نے حاجیوں كو 66 لاكھ 65 ہزار ریال كی رقم واپس كی۔ اس موقع پراسیكیوٹر ایف آئی اے نے دلائل دیتے ہوئے كہا تھا كہ سابق وفاقی وزیر حامد سعید كاظمی حج انتظامات كا جائزہ لینے سعودی عرب گئے، فرنٹ میں احمد فیض كی مدد سے بغیر واش روم زیر تعمیر عمارتوں كی منظوری دی۔ ایف آئی اے کے وکیل نے حامد سعید كاظمی كی سعودی عرب میں احمد فیض سے ملاقات كی تصاویر بھی عدالت میں پیش كیں۔

جبکہ ایف آئی اے پراسیكیوٹر نے اپنے دلائل میں كہا تھا كہ زیرتعمیر عمارتیں زائد كرائے پر حاصل كر كے ایک ارب 8 كروڑ 88 لاكھ روپے كا نقصان پہنچایا گیا جب كہ سعودی حكومت نے فی حاجی 5 ہزار روپے سپریم كورٹ كے نوٹس كے بعد واپس كیے جس میں سابق وفاقی وزیر كا كوئی كردار نہیں تھا۔ چیف جسٹس نے دلائل سننے كے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

More posts