فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی لاہور کے شعبۂ امراضِ چشم سے وابستہ ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ایف سی پی ایس فیلو ڈاکٹر علی زین العابدین نے ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ انہیں ایک مریضہ کی جانب سے بلاجواز الزامات اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، حالانکہ مریضہ کا علاج مکمل طور پر کامیاب رہا۔
ڈاکٹر علی زین العابدین کے مطابق وہ ایف سی پی ایس فیلو ہونے کے ساتھ ساتھ فیلوشپ اِن ویٹریو ریٹینا اور انٹرنیشنل کالج آف آفتھلمولوجی کی ڈگریاں بھی رکھتے ہیں اور کئی برسوں سے شعبۂ چشم میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ رواں سال اپریل میں ایک مریضہ اپنے رشتہ داروں کے کہنے پر ان کے کلینک آئی، جن کے اہلِ خانہ پہلے ہی ان سے کامیاب علاج کروا چکے تھے۔ مریضہ اور ان کے شوہر کا مکمل معائنہ کیا گیا اور جدید لیزر علاج کے تمام مراحل، دورانیہ، ریکوری، ادویات اور احتیاطی تدابیر تفصیل سے سمجھا دی گئیں۔ڈاکٹر کے مطابق مقررہ وقت پر مریضہ کی لیزر سرجری کامیابی سے مکمل کی گئی، جس کے بعد دونوں میاں بیوی اطمینان کے ساتھ گھر چلے گئے۔ تقریباً سات دن بعد مریضہ نے فون کر کے عدم اطمینان کا اظہار کیا، جس پر انہیں فوری طور پر کلینک آ کر معائنہ کروانے کا مشورہ دیا گیا۔چیک اپ کے دوران مریضہ کی نظر 6/6 پائی گئی، جو بغیر عینک ایک عام صحت مند فرد کے برابر ہوتی ہے۔ قرنیہ، آنکھ کا اندرونی دباؤ اور دیگر تمام ٹیسٹ نارمل تھے۔ ڈاکٹر کے مطابق مریضہ کو مزید تسلی دی گئی اور احتیاطاً مصنوعی آنسو تجویز کیے گئے کیونکہ بعض اوقات لیزر کے بعد آنکھوں میں خشکی کی شکایت ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر علی زین العابدین کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود چند دن بعد مریضہ نے فون پر دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور الزام عائد کیا کہ ان کی آنکھ خراب کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مریضہ نے کلینک بند کروانے اور میڈیا میں بدنام کرنے کی دھمکیاں بھی دیں،مریضہ نے ڈیڑھ لاکھ روپے ادائیگی کی، تاہم مریضہ نے بعد میں پیچیدگیوں کی شکایت کی اور زبردستی 4 لاکھ روپے لے لیے،پھر مجھے چند دنوں بعد اے ایس پی ڈیفنس شہر بانو نقوی کی طرف سے کال آتی ہے کہ آپ کو پولیس اسٹیشن بلایا گیا ہے، جب میں اے ایس پی شہر بانو کے سامنے پیش ہوا تو مجھے کہا گیا کہ آپ نے مریضہ کا آپریشن غلط کیا ہے، اسے پیسے واپس کیے جائیں،لیکن مریضہ تو پہلے ہی میرے کلینک میں آکر زور زبردستی سے 4 لاکھ روپے کی رقم لے چکی تھی،مجھے مریضہ کی جانب سے کہا گیا کہ وہ اب علاج لندن سے کروانا چاہتی ہیں، اس کا جو خرچ آئے گا وہ ادا کیا جائے۔ مجھے ڈرایا دھمکایا گیا جس پر میں نے 10 لاکھ روپے کے 3 چیک مریضہ کے حوالے کردیے، ان 3 میں سے 2 چیک کیش ہو چکے ہیں، جبکہ مزید 2 چیک رکوانے کے لیے میری لیگل ٹیم نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ، انہیں پولیس اسٹیشن بلوانے کے لیے ایس ایچ او خرم کو کلینک پر بھی بھیجا گیا تھا،ایس ایچ او نے میرے گارڈ کو بھی غیرقانونی طور پر کلینک سے اٹھا کر حوالات میں بند کردیا تھا، مجھ سے نوٹ لکھوایا گیا، میں خاموش رہا، پولیس کسی بھی ڈاکٹر کو میڈیکل رپورٹ یا میڈیکل بورڈ کے فیصلے کے بغیر اسٹیشن نہیں بلا سکتی،پولیس کس حیثیت سے یہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ کسی ڈاکٹر کا آپریشن صحیح ہوا یا نہیں، اور اس کا جائزہ لینے کے لیے ان کے پاس کون سی طبی ڈگریاں موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی آپریشن کی درستگی کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کرتا ہے، پولیس افسر نہیں،ڈاکٹر علی زین العابدین نے متعلقہ حکام اور طبی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ معالجین کو ہراسانی اور بے بنیاد الزامات سے تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے سکیں،مریض خاتون تھی میں عزت کرتا تھا وہ دھمکیاں دیتے رہے کہ جیسے مریضہ چاہ رہی ہے میں ویسے ہی کروں، ابھی بھی دھمکیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا،یہ سارے فیصلے پولیس نےکرنے ہیں تو ہیلتھ کیئر کمیشن کا رول ختم کرنا چاہئے، ہم انصاف کے متلاشی ہیں،سینئر ڈاکٹر،افسران واقعہ کی شفاف انکوائری کروائیں،میری عزت کا کھلواڑ ہو رہا ہے اس کا مداوا کیا جائے، وزیراعلی پنجاب پر مکمل اعتماد رکھتے ہوئے امید کرتا ہوں کہ وہ میرٹ پر میرا کیس دیکھیں گی،صحت کے شعبے میں پنجاب میں انقلاب آیا،ڈاکٹروں کے مسائل کو دیکھیں اور اس پولیس ایکشن جو میرے خلاف ہوا میری داد رسی کی جائے، میری رقم واپس کروائی جائے،
