برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت اور امریکا کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی سرد مہری کا براہِ راست اور سب سے گہرا اثر بھارت کی ارب پتی کاروباری شخصیات پر پڑا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہندوتوا پر مبنی داخلی پالیسیوں اور دوغلی خارجہ حکمتِ عملی کے باعث نئی دہلی اور واشنگٹن کے تعلقات متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں بھارتی سرمایہ دار طبقہ امریکا میں اپنے مفادات کے تحفظ میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔فنانشل ٹائمز کے مطابق بھارتی ارب پتیوں نے امریکی پالیسی سازوں اور اداروں پر اثرانداز ہونے کے لیے لابنگ فرمز پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے، تاہم اس بھاری سرمایہ کاری کے باوجود وہ امریکا کے ساتھ مضبوط تجارتی اور اسٹریٹجک تعلقات قائم نہ کر سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال اس امر کی واضح مثال ہے کہ امریکا میں ذاتی روابط، سیاسی قربت یا مہنگی لابنگ بھی قانونی اور ادارہ جاتی ترجیحات پر اثرانداز نہیں ہو سکتیں۔
اخبار نے خاص طور پر معروف بھارتی صنعتکار گوتم اڈانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف دائر مقدمات اس حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ امریکی نظام میں قانون کی بالادستی کو ذاتی اثرورسوخ یا معاشی طاقت سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹ کے مطابق اڈانی گروپ سے متعلق قانونی کارروائیاں بھارتی کارپوریٹ لابی کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ امریکا میں احتسابی عمل آزاد اور غیر جانبدار رہتا ہے۔
فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ حالیہ علاقائی اور عالمی پیش رفت، بالخصوص “معرکۂ حق” میں شکست کے بعد، بھارت امریکا کا وہ قابلِ اعتماد اتحادی نہیں رہا جس پر حساس معاملات میں انحصار کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کا اثر امریکا اور بھارت کے درمیان جاری ٹیرف تنازع پر بھی پڑا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان رابطہ نہ ہونے کے برابر رہا، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں جمود کی واضح علامت ہے۔
برطانوی اخبار کے مطابق صورتحال اس وقت بھارت کے لیے مزید تلخ ہوگئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں اپنی حکمتِ عملی کو تبدیل کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ قربت بڑھانے کے اشارے دیے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط نے بھارت کے اس تاثر کو شدید نقصان پہنچایا ہے کہ وہ واشنگٹن کا قدرتی اور ناگزیر اتحادی ہے۔
فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ ان تمام عوامل نے مل کر نہ صرف بھارت کی خارجہ پالیسی کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے بلکہ بھارتی ارب پتی طبقے کی عالمی سطح پر اثراندازی کی صلاحیت کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر بھارت اپنی داخلی پالیسیوں اور خارجہ حکمتِ عملی میں توازن پیدا نہ کر سکا تو مستقبل میں اسے امریکا سمیت مغربی دنیا میں مزید سفارتی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
