دنیا کی تاریخ اس تلخ حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی ملک نے اپنی خودمختاری، وسائل یا آزاد فیصلوں پر اصرار کیا، عالمی طاقتوں کی نظریں اس پر جم گئیں۔ وینزویلا میں حالیہ پیش آنے والے واقعات اسی سلسلے کی ایک اور کڑی محسوس ہوتے ہیں، جہاں ایک کمزور مگر خوددار ریاست کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال کی بازگشت سنائی دی۔ یہ واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا عالمی نظام واقعی انصاف، قانون اور برابری پر قائم ہے، یا پھر طاقت ہی سب سے بڑا اصول بن چکی ہے؟یہ منظرنامہ ہمارے لیے اجنبی نہیں۔ ماضی میں پاکستان کو بھی مختلف ادوار میں اندرونی و بیرونی سازشوں، دباؤ اور جارحانہ منصوبوں کا سامنا رہا۔ انڈیا اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والی خفیہ اور اعلانیہ کوششیں تاریخ کا حصہ ہیں، مگر قدرت کا شکر ہے کہ پاکستان کو ایک ایسی بہادر، مضبوط اور پیشہ ور مسلح افواج نصیب ہوئیں جنہوں نے ہر آزمائش میں وطنِ عزیز کا دفاع کیا۔ پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی یہ تینوں ادارے مل کر ہماری قومی سلامتی کی مضبوط فصیل ہیں۔اس دفاعی استحکام کے پیچھے محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی عظیم ٹیم کا کردار بھی ناقابلِ فراموش ہے۔ ایٹمی صلاحیت نے پاکستان کو نہ صرف دفاعی تحفظ فراہم کیا بلکہ عالمی سطح پر ایک باوقار اور آزاد ریاست کے طور پر زندہ رہنے کا حق بھی دیا۔ اگر پاکستان ایٹمی قوت نہ بنتا تو شاید آج ہمارے حالات یکسر مختلف ہوتے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس نعمت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ملک کو حقیقی معنوں میں ایک مکمل خودمختار اور خوددار ریاست بنائیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا حالیہ اجلاس عالمی سیاست میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا، جہاں وینزویلا میں مبینہ امریکی فوجی کارروائی پر تفصیلی اور سنجیدہ بحث ہوئی۔ اس اجلاس نے دنیا کے سامنے یہ حقیقت عیاں کر دی کہ عالمی طاقتوں کے درمیان نہ صرف مفادات کا ٹکراؤ ہے بلکہ عالمی قوانین کی تشریح پر بھی گہرے اختلافات موجود ہیں۔اجلاس کے دوران روس اور چین نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے وینزویلا میں امریکی کارروائی کو کھلے الفاظ میں بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔روسی نمائندے نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی بھی خودمختار ملک کے اندر فوجی مداخلت عالمی امن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور یہ ایک خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے۔چین نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں، بلکہ مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی دیرپا امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔اس اجلاس میں سب سے دلچسپ پہلو کولمبیا کا مؤقف رہا، جو خطے سے تعلق رکھنے کے باوجود امریکی کارروائی پر تنقید کرتا نظر آیا۔ کولمبیا کے نمائندے نے واضح کیا کہ لاطینی امریکہ پہلے ہی سیاسی بے یقینی اور معاشی دباؤ کا شکار ہے، اور کسی بھی بیرونی فوجی مداخلت سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ اب خطے کے ممالک بھی طاقت کی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔پاکستان نے اس اجلاس میں اپنی روایتی، سنجیدہ اور اصولی خارجہ پالیسی کا مظاہرہ کیا۔ براہِ راست کسی ملک کو ہدفِ تنقید بنانے کے بجائے پاکستانی مندوب نے بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر زور دیا۔پاکستان کا مؤقف واضح تھا تنازعات کا حل بندوق، میزائل یا دباؤ سے نہیں بلکہ مکالمے، تحمل اور پرامن ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔یہی وہ متوازن سفارت کاری ہے جو پاکستان کو عالمی برادری میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ممتاز کرتی ہے۔
سلامتی کونسل کا یہ اجلاس اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ آج کی دنیا ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف طاقت کے ذریعے فیصلے مسلط کرنے کا رجحان ہے، تو دوسری طرف قانون، اصول اور خودمختاری کی بات کرنے والی آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں۔روس اور چین جیسے ممالک کھل کر امریکی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں، جبکہ پاکستان جیسے ممالک محتاط مگر اصولی سفارت کاری کے ذریعے عالمی قوانین کی یاد دہانی کرا رہے ہیں۔ اگر دنیا نے واقعی امن اور استحکام کی راہ پر چلنا ہے تو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ طاقت وقتی طور پر غالب آ سکتی ہے، مگر تاریخ ہمیشہ حق، اصول اور انصاف کا ساتھ دیتی ہے۔
