پشاور میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے زیرِ اہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج اور ملک دشمن قوتوں کا اصل نشانہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان ہیں، تاہم پوری قوم اپنی مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خلاف علماء کرام نے ہمیشہ دوٹوک اور واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ علامہ طاہر اشرفی کے مطابق “پیغامِ پاکستان” کے عنوان سے جاری متفقہ قومی فتویٰ پر ملک بھر کے 15 ہزار سے زائد علماء و مشائخ کے دستخط موجود ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام دہشت گردی اور بے گناہوں کے قتل کی کسی صورت اجازت نہیں دیتا۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کا بنیادی مقصد معاشرے میں امن، برداشت، رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خودکش حملوں اور دہشت گردی کے خلاف سب سے پہلا اور واضح فتویٰ پاکستان کے علماء نے جاری کیا، جسے عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔علامہ طاہر اشرفی نے اعلان کیا کہ آنے والا جمعہ ملک بھر میں “پیغامِ امن” کے نام سے منایا جائے گا، جس کے دوران مساجد اور مذہبی اجتماعات میں امن، اتحاد، قومی یکجہتی اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا پیغام دیا جائے گا۔ انہوں نے علماء کرام سے اپیل کی کہ وہ اپنے خطبات میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر انداز میں آگاہی دیں اور نوجوان نسل کو گمراہ کن نظریات سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں امن و امان کے قیام، شدت پسندی کے خاتمے اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔
