Baaghi TV

ایران کے معاملے پر ٹرمپ کاسخت مؤقف، فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشنز زیر غور

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف جاری پرتشدد اور جان لیوا کریک ڈاؤن پر شدید برہم دکھائی دیتے ہیں اور اپنی ہی کھینچی گئی “ریڈ لائن” کے باعث اب وہ ایرانی حکومت کے خلاف فیصلہ کن اقدام کو ناگزیر سمجھنے لگے ہیں۔ اس معاملے سے آگاہ امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ اب محض بیانات کافی نہیں رہے اور کسی نہ کسی عملی کارروائی کی طرف جانا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے ایک اہم اجلاس میں صدر کے لیے مختلف آپشنز کو حتمی شکل دینے پر غور کیا۔ صدر ٹرمپ مشی گن کے دورے سے واشنگٹن واپسی کے بعد اس دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں انہیں ایران میں ہلاکتوں کے تازہ اعداد و شمار، حکومت کی ممکنہ آئندہ کارروائیوں اور یہاں تک کہ پھانسیوں کے خدشے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ایک ذریعے کے مطابق بریفنگ کے دوران صدر کو ایران کے اندر سے حاصل کی گئی ویڈیوز بھی دکھائی گئیں جن میں مظاہرین کے خلاف تشدد کے مناظر شامل تھے۔امریکی میڈیا کے مطابق حالیہ دنوں میں ٹرمپ کی قومی سلامتی ٹیم کے اندر اس بات پر اختلاف رہا ہے کہ آیا ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کی جائے یا نہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی فوجی قدم اٹھایا بھی گیا تو اس میں زمینی افواج کی تعیناتی شامل نہیں ہوگی اور امریکہ ایران میں طویل المدتی فوجی مداخلت نہیں چاہتا۔

ذرائع کے مطابق صدر کے سامنے موجود آپشنز میں ایک اہم آپشن ایران کی سیکیورٹی فورسز سے منسلک تنصیبات پر حملہ کرنا بھی ہے، کیونکہ یہی فورسز مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی ذمہ دار سمجھی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکام ہر ممکن خطرے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، جن میں فضائی حملے کے دوران کسی غلطی کا امکان یا ایران کی جانب سے غیر معمولی جوابی کارروائی شامل ہے۔ امریکی حکام اس بات سے بھی گریز چاہتے ہیں کہ ایران میں حکومت کے ممکنہ خاتمے کی صورت میں پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے۔

امریکی عہدیداروں کے مطابق صدر ٹرمپ ماضی میں بھی ایرانی حکومت کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر فوجی کارروائی کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور اب وہ خود کو ان دھمکیوں پر عمل درآمد کا پابند محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ سابق صدور کی مثالیں ذہن میں رکھتے ہیں، خصوصاً سابق صدر باراک اوباما کا 2013 میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے باوجود کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ، جسے ٹرمپ ایک ناکام “ریڈ لائن” سمجھتے ہیں۔ایک ذریعے نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ “صدر نے خود ایک ریڈ لائن کھینچ دی ہے اور اب وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہوگا۔ تقریباً طے ہے کہ وہ کوئی قدم اٹھائیں گے، سوال صرف یہ ہے کہ وہ کس نوعیت کا ہوگا۔”

فیصلہ سازی میں ایک بڑا عنصر ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی ہے۔ تہران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ حالیہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران عراق اور شام میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی تیاریوں پر غور کر رہا ہے۔امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایرانی حکومت مظاہروں کے غیر متوقع پھیلاؤ پر خود حیران ہے اور اس وقت ایک نازک توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ مظاہرین کو کنٹرول بھی کیا جائے اور غیر ملکی مداخلت کا جواز بھی نہ بنے۔ اسی مقصد کے تحت ایران میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین پر پابندیاں، انٹرنیٹ کی بندش اور اطلاعات کا بلیک آؤٹ دیکھا جا رہا ہے۔

منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے ایرانی جوابی کارروائی کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا، “ایران نے پچھلی بار بھی یہی کہا تھا جب میں نے ان کی جوہری صلاحیت کو ختم کیا، جو اب ان کے پاس نہیں رہی۔ بہتر ہے وہ اپنا رویہ درست رکھیں۔”دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے، قطر کے العدید ایئر بیس، سے بعض اہلکاروں کو احتیاطی طور پر نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ اڈہ ماضی میں بھی ایرانی حملے کا نشانہ بن چکا ہے اور یہاں تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

صدر ٹرمپ نے واپسی پر صحافیوں سے کہا کہ انہیں بخوبی علم ہے کہ وہ کیا قدم اٹھا سکتے ہیں، تاہم انہوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا، “مجھے بالکل معلوم ہے کہ میں کیا کر سکتا ہوں، فیصلہ کرنا ہے لیکن ظاہر ہے میں آپ کو نہیں بتا سکتا۔”ذرائع کے مطابق صدر کو گزشتہ ہفتے سے ایران کے حوالے سے مسلسل مختلف آپشنز پر مشتمل بریفنگز دی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سمیت اہم شخصیات نے صدر پر کسی مخصوص فیصلے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا بلکہ ہر آپشن کے فوائد اور نقصانات سامنے رکھے گئے ہیں۔ٹرمپ فوجی کارروائی کے علاوہ دیگر راستوں پر بھی غور کر رہے ہیں، جن میں سائبر حملے، نئی اقتصادی پابندیاں اور معلوماتی جنگ شامل ہیں۔ اسی تناظر میں صدر نے اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے مالک ایلون مسک سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ ایران میں انٹرنیٹ بندش کے باوجود عوام کو رابطے کی سہولت دی جا سکے۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق اس وقت ایران میں اسٹارلنک کے ذریعے مفت انٹرنیٹ فراہم کیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا، “جب میں ایران میں ہونے والی اموات دیکھتا ہوں تو ایران میرے ذہن میں ہوتا ہے۔” اسی دوران قومی سلامتی کونسل کا اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں نائب صدر، وزیر خارجہ، وزیر دفاع، سی آئی اے ڈائریکٹر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس سمیت اہم حکام شریک تھے۔اگرچہ حالیہ دنوں میں صدر نے ایران کے ساتھ سفارتی راستے کی بات بھی کی تھی، تاہم منگل کی صبح انہوں نے اچانک اعلان کیا کہ جب تک مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن بند نہیں ہوتا وہ ایرانی حکام سے کسی بھی ملاقات کو منسوخ کر رہے ہیں۔ بعض مشیروں کا خیال ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کے پیغامات محض امریکی حملہ روکنے کی کوشش ہیں۔

ادھر سعودی عرب، قطر اور عمان سمیت امریکہ کے اتحادی خلیجی ممالک پس پردہ سفارتی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکی جا سکے، کیونکہ ان کے مطابق اس کے پورے خطے پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ٹرمپ نے منگل کی صبح اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایرانی مظاہرین کو احتجاج جاری رکھنے کا پیغام دیتے ہوئے لکھا، “ایرانی محب وطنو، احتجاج جاری رکھو، اپنے اداروں پر قبضہ کرو، مدد آ رہی ہے۔” انہوں نے آخر میں “میگا” یعنی “میک ایران گریٹ اگین” بھی لکھا۔

ایرانی قیادت کے لیے اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ “وہ انسانیت کا مظاہرہ کریں”، اور خبردار کیا کہ “انہیں لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہیے، ورنہ مسئلہ بہت بڑا ہو جائے گا۔”

More posts