پیپلز پارٹی نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے 18ویں آئینی ترمیم سے متعلق بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے حکومت سے باضابطہ وضاحت طلب کر لی ہے۔ اس معاملے پر قومی اسمبلی میں بھی گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی، جہاں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حکومتی مؤقف کو واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے کہا کہ گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے سانحہ گل پلازہ پر گفتگو کرتے ہوئے اچانک 18ویں ترمیم کا حوالہ دیا، جو ایک نہایت حساس اور آئینی معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ خواجہ آصف مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر بھی ہیں، اس لیے ان کے بیان کو محض ذاتی رائے نہیں بلکہ حکومت کی پالیسی کے طور پر دیکھا جائے گا۔نوید قمر نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ ماضی میں کئی تجربات کیے گئے اور ہر تجربے کے نتیجے میں ملک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض تجربات نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، لہٰذا وفاقی حکومت سے پُرزور مطالبہ ہے کہ اب مزید کسی قسم کے تجربات سے باز رہا جائے اور آئین کے تحت طے شدہ نظام کو کمزور نہ کیا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ 18ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ کا متفقہ فیصلہ ہے، جس کے ذریعے صوبوں کو ان کے آئینی حقوق دیے گئے۔ اس ترمیم پر سوال اٹھانا دراصل وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، جس کی پیپلز پارٹی کسی صورت اجازت نہیں دے سکتی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خواجہ آصف کے بیان سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے اسے ان کی ذاتی رائے قرار دے دیا۔ قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہر فرد کو اپنی ذاتی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے، تاہم ایسی آرا کو حکومت کی پالیسی نہ سمجھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے تمام اہم فیصلے پارلیمنٹ کی مشاورت اور رضامندی سے کیے جاتے ہیں۔وفاقی وزیر قانون نے واضح کیا کہ آئینی ترامیم یا اختیارات کی تقسیم جیسے معاملات انفرادی بیانات سے نہیں بلکہ پارلیمانی عمل کے ذریعے طے پاتے ہیں، اور حکومت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی فیصلے کرے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 18ویں آئینی ترمیم ایک “ڈھکوسلا” ثابت ہوئی ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں تمام اختیارات صوبائی حکومتوں کو منتقل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کراچی میں پیش آنے والے مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اختیارات کو مزید نچلی سطح، یعنی بلدیاتی اداروں تک منتقل کیا جائے۔
