Baaghi TV

شمالی کوریا کی سینما دنیا میں غیر معمولی تبدیلی، فلم میں تشدد، سنسنی اور ممنوعہ مناظر

شمالی کوریا کی ایک نئی ریاستی منظور شدہ فلم نے ملکی اور غیر ملکی مبصرین کو حیران کر دیا ہے، کیونکہ اس میں ایسے مناظر اور کہانی دکھائی گئی ہے جو ماضی میں اس سخت گیر ملک کے سینما میں ناقابلِ تصور سمجھے جاتے تھے۔

فلم “ڈیز اینڈ نائٹس آف کنفرنٹیشن” (Days and Nights of Confrontation) میں ایک شخص کو پلاسٹک بیگ سے دم گھونٹ کر قتل کرنے کا منظر، خودکش بم جیکٹ، خاندانی غداری، ازدواجی بے وفائی، حتیٰ کہ مختصر جزوی عریانی بھی دکھائی گئی ہے۔ ایک خاتون کردار کو پہلے اس کے شوہر کے ہاتھوں چھرا گھونپا جاتا ہے، پھر گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہوتی ہے اور آخرکار قتل کر دیا جاتا ہے۔یہ فلم گزشتہ سال شمالی کوریا کے سینما گھروں میں دکھائی گئی جہاں اس نے بڑی تعداد میں ناظرین کو متوجہ کیا، تاہم اس ماہ اسے پہلی بار سرکاری ٹی وی پر نشر کیا گیا، جسے مبصرین سرکاری منظوری اور اعتماد کی واضح علامت قرار دے رہے ہیں۔اس فلم کو کوریَن اپریل 25 فلم اسٹوڈیو نے پروڈیوس کیا ہے، جو شمالی کوریا کی نظریاتی اور انقلابی فلموں کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں کھلے تشدد اور تھرلر انداز کی کہانی کو خاص طور پر غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی فلم ساز جسٹن مارٹیل، جنہوں نے گزشتہ سال پیانگ یانگ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شرکت کی، کا کہنا ہے “پلاسٹک بیگ سے دم گھونٹنے کا منظر میں نے اس سے پہلے کسی شمالی کوریائی فلم میں نہیں دیکھا۔ جزوی عریانی بھی ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔”

فلم کی کہانی 2000 کی دہائی کے وسط میں ترتیب دی گئی ہے اور اس کا مرکزی موضوع ذاتی اور ریاستی غداری ہے۔ پلاٹ کا نقطۂ عروج سابق شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اِل کے قتل کی سازش ہے، جس میں ان کی ٹرین کو دھماکے سے اڑانے کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔یہ کہانی 2004 میں چین کی سرحد کے قریب ریونگ چون ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے دھماکے سے مماثلت رکھتی ہے، جسے سرکاری طور پر حادثہ قرار دیا گیا تھا، مگر بیرونِ ملک اسے قتل کی کوشش سے جوڑا جاتا رہا۔فلم کے اختتام پر سازش ناکام ہو جاتی ہے، مرکزی کردار گرفتار ہو جاتا ہے اور واضح پیغام دیا جاتا ہے کہ ریاست سے غداری کا انجام ہمیشہ تباہی ہے۔

اگرچہ فلم کا مواد اشتعال انگیز ہے، تاہم اس کا پیغام مکمل طور پر ریاستی نظریے کے مطابق ہے۔ غداری تباہی کی طرف لے جاتی ہے اور ریاست سے وفاداری ہی واحد محفوظ راستہ ہے۔ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی کم جونگ اُن کی حکومت کی اس سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ نوجوان نسل کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جدید انداز اپنانا ضروری ہو چکا ہے۔

شمالی کوریا میں فلم کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ سابق رہنما کم جونگ اِل خود فلمی صنعت کی نگرانی کرتے تھے اور ان کے پاس 15 ہزار سے زائد فلموں کا ذاتی ذخیرہ تھا۔اسی دور میں جنوبی کوریا کی معروف اداکارہ چوئی اُن ہی اور ہدایتکار شن سانگ اوک کو اغوا کر کے پیانگ یانگ لایا گیا، جہاں انہوں نے ریاست کے لیے متعدد فلمیں بنائیں، جن میں مشہور فلم “پلگاساری” بھی شامل ہے۔آج کے شمالی کوریا میں اسمارٹ فونز، ریاستی ایپس اور اندرونی اسٹریمنگ سروسز عام ہو رہی ہیں، جبکہ خفیہ طور پر جنوبی کوریائی ڈرامے اور موسیقی بھی نوجوانوں میں مقبول ہیں۔ اگرچہ ان پر سخت سزائیں دی جاتی ہیں، مگر ماہرین کے مطابق صرف جبر اب کافی نہیں رہا۔

“ڈیز اینڈ نائٹس آف کنفرنٹیشن” اسی نئی حکمتِ عملی کا حصہ ہے ، زیادہ سنسنی خیز، زیادہ تاریک، مگر پیغام وہی پرانا،ریاست اور رہنما کے خلاف سازش کا انجام ہمیشہ ہلاکت اور تباہی ہے۔

More posts