جنوبی بحیرہ چین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان فلپائن نے اپنی سمندری حدود میں موجود چینی تحقیقی جہازوں کے خلاف عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
فلپائنی حکام کے مطابق چار چینی تحقیقی جہاز ان کی سمندری حدود میں بغیر اجازت داخل ہو کر غیر قانونی تحقیق میں مصروف پائے گئے، جس پر فوری ردعمل دیتے ہوئے فلپائن نے اپنے طیارے اور بحری جہاز تعینات کر دیے ہیں تاکہ ان جہازوں کو علاقے سے نکالا جا سکے۔
فلپائن کوسٹ گارڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ ملکی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی غیر ملکی جہاز کو بغیر اجازت تحقیق کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اپنی سمندری حدود کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔
دوسری جانب چین نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فلپائن کے پانچ افراد نے اسپراٹلی جزائر میں غیر قانونی داخلے کی کوشش کی، جنہیں چینی کوسٹ گارڈ نے روک دیا اور قانون کے مطابق کارروائی کی گئی۔
ماہرین کے مطابق جنوبی بحیرہ چین ایک حساس خطہ ہے جہاں مختلف ممالک کے درمیان سمندری حدود اور وسائل پر تنازعات موجود ہیں، اور ایسے واقعات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں، خاص طور پر تجارت اور سیکیورٹی کے حوالے سے۔
جنوبی بحیرہ چین میں کشیدگی، فلپائن کا چینی جہازوں کے خلاف ایکشن
