جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج جو قانون سازی ہوئی وہ خلاف شریعت ہوئی ہے،ہم نے اسلامی نظریاتی کونسل کو یہ بل بھیجنے کا مطالبہ کیا
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ نہیں سنا گیا ،ایسے قوانین پر لکھا ہوتاہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی خواہش پر ترامیم کی جارہی ہیں،،عائلی قوانین غیر اسلامی منظور کئے گئے،میں اعلان کرتا ہوں ان غیر اسلامی قوانین کی خلاف ورزی میں کراؤں گا، میں اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادیاں کراؤں گا دیکھوں گا تم کیا کرتے ہو آپ کے غیر اسلامی قوانین کو پاؤں تلے روندوں گا،
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کے پہلے صدر نے پاکستان کے خاتمے کی بات بطور منشور پیش کی ،حماس کو کچلنے کے بعد ایران اور پھر ایران میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف تیاری کررہا ہے ،اگر اسرائیل کے اقوام متحدہ میں بیٹھنے کی دلیل پر اس کے ساتھ بیٹھا جاسکتا ہے تو پھر پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانے کی پابندی کیوں لگائی گئی ہے،اتنا بڑا فیصلہ لیتے ہوئے پارلیمان سے کیوں نہیں پوچھا گیا ،اللّٰہ کے بجائے حکومت پاکستان ٹرمپ کے بت کو راضی کر رہی ہے اس سے بڑا شرک کوئی نہیں ہوسکتا ، ہم خدا کو ناراض کر رہے ہیں، ہم اس پیس اکارڈ کو مسترد کرتے ہیں، اسرائیل کی غلامی میں پاکستان کام کرنے کے لیے رضامند ہوگیا ہے، یہ مسلمانوں اور فلسطینیوں سے غداری ہے
