Baaghi TV

تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی،سرکاری دستاویزات نے اصل کہانی واضح کر دی

تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والے متضاد بیانیوں کے درمیان سرکاری و دستاویزی شواہد نے کئی اہم حقائق کو بے نقاب کر دیا ہے۔ دستیاب نوٹیفکیشنز، مراسلات اور تحریری ریکارڈ کے مطابق تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی کسی فوجی آپریشن کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ فیصلہ خیبر پختونخوا حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے خالصتاً سول انتظامی بنیادوں پر کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں اس فیصلے کو مسخ کر کے ایک ایسا سیاسی و عوامی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی گئی جس میں ذمہ داری فوج پر ڈال دی گئی۔

دستاویزات کے مطابق آبادی کی منتقلی کا فیصلہ مقامی حالات، سیکیورٹی خدشات اور انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ اس عمل میں مقامی جرگوں، عمائدین اور عوامی نمائندوں سے مشاورت کی گئی، جس کے بعد باقاعدہ طور پر نقل مکانی کا فیصلہ سامنے آیا۔ یہ شواہد اس دعوے کی واضح نفی کرتے ہیں کہ تیراہ ویلی سے لوگوں کو کسی زبردستی، دباؤ یا عسکری کارروائی کے تحت بے دخل کیا گیا۔سرکاری لیٹرز اور ریکارڈ میں یہ بھی واضح ہے کہ پاکستان آرمی کا کردار محض انسانی اور امدادی نوعیت کا تھا۔ فوج نے لاجسٹک سپورٹ، ٹرانسپورٹ، عارضی رہائش، طبی امداد اور دیگر سہولیات فراہم کرنے میں معاونت کی، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ اور منظم انداز میں منتقل کیا جا سکے۔ تاہم اس انسانی کردار کو بعض حلقوں کی جانب سے دانستہ طور پر عسکری مداخلت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو زمینی حقائق کے برعکس ہے۔

تحریری شواہد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس معاملے پر ایک منظم غلط معلوماتی مہم چلائی جا رہی ہے، جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور اصل انتظامی ناکامیوں کو پسِ پردہ رکھنا ہے۔ ذرائع کے مطابق تقریباً 4 ارب روپے کے ریلیف فنڈ کے استعمال پر بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان فنڈز کا ایک بڑا حصہ شفاف اور درست انداز میں استعمال نہیں ہوا، جس پر اب تک مکمل اور تسلی بخش وضاحت سامنے نہیں آ سکی۔دستاویزات یہ تضاد بھی واضح کرتی ہیں کہ ایک جانب سرکاری ریکارڈ اس فیصلے کو سول انتظامیہ کا اقدام قرار دیتا ہے، جبکہ دوسری جانب بعض سیاسی بیانات اور بیانیاتی مہمات اسے فوجی آپریشن کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تضاد ریاستی سطح پر بیانیاتی ابہام اور ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔ دستاویزات کے مطابق اصل مسئلہ کسی عسکری آپریشن کا نہیں بلکہ انتظامی بدانتظامی، کمزور منصوبہ بندی اور ریلیف فنڈز کے شفاف استعمال میں ناکامی تھا، جسے چھپانے کے لیے بیانیہ تبدیل کیا گیا۔

سرکاری دستاویزات نے اس تاثر کو بھی بے نقاب کر دیا ہے کہ تیراہ ویلی سے نقل مکانی فوجی جبر یا آپریشن کا نتیجہ تھی۔ حقیقت اس کے برعکس ہے کہ یہ فیصلہ سول حکومت کی جانب سے کیا گیا اور فوج نے صرف انسانی امداد اور سہولت کاری کا کردار ادا کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر انسانی امدادی اقدامات کو عسکری جبر کے طور پر پیش کیا جائے تو اس سے نہ صرف ریاستی اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ عوامی اعتماد بھی شدید طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔ماہرین اور مبصرین اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ تیراہ ویلی سے متعلق حقائق کو شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھا جائے، ریلیف فنڈز کے استعمال کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے، تاکہ نہ صرف متاثرہ آبادی کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے بلکہ ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد اور ہم آہنگی بھی بحال ہو۔

More posts