سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات پر قابو نہ پایا جا سکا، جہاں ریبیز کے باعث ایک اور معصوم جان ضائع ہو گئی۔
سانگھڑ کے علاقے جھول میں 8 سالہ بچی آوارہ کتے کے کاٹنے کے بعد ریبیز میں مبتلا ہو کر دم توڑ گئی۔ طبی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ سال 2026ء میں کتے کے کاٹنے سے ہلاکت کا پہلا کیس ہے، جس نے صوبے بھر میں صحت عامہ کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دے دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ ماہ قبل جھول میں بچی کو آوارہ کتے نے کاٹا تھا۔ ابتدائی طور پر زخموں کا علاج کیا گیا تاہم بروقت اور مکمل اینٹی ریبیز ویکسین نہ ملنے کے باعث بچی میں ریبیز کی تصدیق ہو گئی۔ حالت بگڑنے پر اسے اسپتال منتقل کیا گیا مگر جانبر نہ ہو سکی۔ ماہرین کے مطابق ریبیز ایک مہلک مرض ہے جس میں علامات ظاہر ہونے کے بعد مریض کی جان بچانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک ماہ کے دوران سندھ بھر میں کتے کے کاٹنے کے 3 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سال 2025ء میں صوبے میں ریبیز کے باعث 21 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جبکہ اسی سال 60 ہزار سے زائد سگ گزیدگی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو اس مسئلے کے پھیلاؤ کی واضح علامت ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، ویکسین کی قلت، بروقت علاج تک رسائی میں رکاوٹیں اور آگاہی کی کمی اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر زخم کو صاف پانی اور صابن سے دھونا، اور جلد از جلد اینٹی ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبلین کا کورس مکمل کرنا جان بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔
