Baaghi TV

بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن حادثہ، خاتون کی لاش مل گئی،بچی کی تلاش جاری

لاہور کے تاریخی علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں ماں بیٹی کے گرنے کے واقعے سے متعلق نئی اور تشویشناک تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

خاتون کی لاش ملنے کے بعد ابتدائی طور پر واقعے کو ’فیک‘ قرار دینے، ریسکیو ذرائع اور انتظامیہ کے متضاد بیانات، اور پولیس کی بدلتی ہوئی تفتیش نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ماں اور 9 ماہ کی بچی کے سیوریج ہول میں گرنے کی اطلاع خاتون کے شوہر نے دی تھی۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں چند ہی منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ گئیں، تاہم تلاش مکمل ہونے سے قبل ہی موقع پر موجود انتظامیہ نے میڈیا کو رپورٹ جاری کرتے ہوئے واقعے کو جعلی (فیک) قرار دے دیا تھا۔ریسکیو ذرائع نے اس دعوے کی توثیق کرنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذکورہ سیوریج ہول میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس مقام کی نشاندہی کی گئی، وہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ کے علاقے میں واقع ہے، جہاں سیوریج کا ڈھانچہ ایسا نہیں کہ کوئی شخص اس میں بہہ سکے۔

دوسری جانب لاہور انتظامیہ نے بھی سیوریج لائن کا معائنہ کرنے کے بعد یہی دعویٰ کیا کہ وہاں کسی قسم کا حادثہ پیش نہیں آیا۔ انتظامیہ کے مطابق جائے وقوع پر کوئی شواہد نہیں ملے جو ماں بیٹی کے سیوریج میں گرنے کی تصدیق کر سکیں۔

تاہم معاملہ اس وقت نیا رخ اختیار کر گیا جب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش تقریباً 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے برآمد ہو گئی۔ خاتون کی لاش ملنے کے بعد انتظامیہ اور ریسکیو کے ابتدائی مؤقف پر سنگین سوالات اٹھنے لگے، جبکہ 9 ماہ کی بچی کی تلاش تاحال جاری ہے۔تحقیقات کے مطابق متاثرہ خاندان سیر و تفریح کے لیے لاہور آیا تھا۔ اہل خانہ نے پہلے مینارِ پاکستان کی سیر کی، اس کے بعد داتا دربار پہنچے۔ اسی دوران خاتون اپنی 9 ماہ کی بچی کے ہمراہ سیوریج لائن کی منڈیر پر بیٹھی، جہاں سے دونوں نیچے گر گئیں۔ واقعے کے وقت علاقے میں اندھیرا بھی تھا اور مبینہ طور پر انتظامیہ کی جانب سے وہاں کھدائی کی گئی تھی، جس کے باعث خطرہ مزید بڑھ گیا۔

پولیس نے ابتدائی تفتیش میں شوہر اور بیوی کے درمیان تنازع اور دیگر سنگین الزامات کی رپورٹ جاری کی تھی۔ شبہے کی بنیاد پر خاتون کے شوہر سمیت تین افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ بھی کیا گیا، تاہم بعد ازاں پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی کو باضابطہ طور پر حراست میں نہیں لیا گیا۔ادھر لاپتہ خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ ان کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے۔ اس بیان کے بعد شوہر سمیت تین افراد کو گرفتار کیا گیا، مگر بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا، جس سے تفتیشی عمل کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو 24 گھنٹوں میں مکمل تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ کی ہدایت پر غفلت اور کوتاہی کے الزامات کے تحت ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

خاتون کی لاش ملنے سے قبل ریسکیو ذرائع مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے کہ جس سیوریج ہول میں گرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہاں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن نہیں۔ تاہم لاش کی برآمدگی کے بعد اب تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور واقعے کے ہر پہلو کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق بچی کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

More posts