Baaghi TV

پاکستان نے SMASH اور YALGHAR-200 کی رونمائی کر دی ، جدید اسٹرائیک سسٹمز اور علاقائی تزویراتی اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

تحریر: میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدت کاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

فروری 2026 میں پاکستان کی صفِ اول دفاعی برآمدی کمپنی گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز (GIDS) نے سعودی عرب کے شہر ریاض میں منعقدہ ورلڈ ڈیفنس شو 2026 کے موقع پر دو نئے مقامی طور پر تیار کردہ میزائل سسٹمز کی نمائش کی،
SMASH ہائپرسانک میزائل اور YALGHAR-200 لوئٹرنگ میونیشن۔
یہ ہتھیار نہ صرف پاکستان کے دفاعی برآمدی پورٹ فولیو کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ بھارت۔پاکستان سیکیورٹی تناظر میں اہم تزویراتی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔
SMASH — ہائپرسانک اینٹی شپ اور لینڈ اٹیک میزائل ،SMASH (Supersonic Missile Anti-Ship) پاکستان کا جدید ترین ہائپرسانک میزائل ہے جو بحری اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

نمایاں خصوصیات
دوہرا کردار:
یہ میزائل بحری جہازوں اور زمینی اہداف دونوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے آپریشنل لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔
رفتار اور درستگی:
ایچ ڈی-جی این ایس ایس معاون انرشیل نیویگیشن سسٹم اور ایکٹو ریڈار سیکر سے لیس، جو پیچیدہ اور متنازعہ ماحول میں بھی انتہائی درست حملے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
رینج اور وارہیڈ:
اینٹی شپ ورژن کی رینج 290 کلومیٹر ہے اور یہ 384 کلوگرام وارہیڈ لے جا سکتا ہے۔
لینڈ اٹیک ورژن میں 444 کلوگرام تک وارہیڈ نصب کیا جا سکتا ہے۔
برآمدی ورژن
بین الاقوامی خریداروں کے لیے کم رینج والے ورژن تیار کیے گئے ہیں تاکہ MTCR رہنما اصولوں کی پاسداری کی جا سکے۔

بھارت کے تناظر میں تزویراتی (Strategic) اہمیت
بھارتی بحریہ تیزی سے اپنے سطحی بیڑے، آبدوزوں اور طیارہ بردار جہازوں کو جدید بنا رہی ہے۔SMASH پاکستان کو بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند میں بھارتی بحری اثاثوں کے خلاف ایک کم لاگت اور مقامی جوابی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔اس کی ہائپرسانک رفتار بھارتی بحری فضائی دفاعی نظام کے ردِعمل کے وقت کو کم کر دیتی ہے، جس سے حساس سمندری گزرگاہوں میں ڈیٹرنس کو تقویت ملتی ہے۔دوہری لینڈ اٹیک صلاحیت کے ساتھ SMASH پاکستان کے میزائل میٹرکس میں ایک قلیل فاصلے کی درست اسٹرائیک تہہ کا اضافہ کرتا ہے، جو نصر ٹیکٹیکل اور شاہین اسٹریٹجک سسٹمز کی تکمیل کرتے ہوئے بھارت کے خلاف روایتی ڈیٹرنس کو مضبوط بناتا ہے۔

YALGHAR-200 — طویل دورانیے کی لوئٹرنگ میونیشن
YALGHAR-200 ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والی لوئٹرنگ میونیشن ہے جو نگرانی اور حملہ دونوں صلاحیتوں کو یکجا کرتی ہے۔
صلاحیتیں
آپریشنل رینج:
200 کلومیٹر — جو دشمن کی پچھلی صفوں میں گہرائی تک حملے ممکن بناتی ہے۔
دورانیہ:
90 سے 120 منٹ تک فضا میں موجود رہنے کی صلاحیت، جو حقیقی وقت میں ہدف کی نشاندہی کے لیے موزوں ہے۔
وارہیڈ کی لچک:
10 سے 20 کلوگرام وارہیڈ، جو بکتر بند گاڑیوں، مضبوط دفاعی مورچوں یا اہم تنصیبات کے خلاف مؤثر ہے۔
لانچ کے اختیارات:
زمینی بوسٹر کے ذریعے یا طیارے سے فضا میں چھوڑ کر استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے حربی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔
بھارت کے تناظر میں تزویراتی اہمیت
YALGHAR-200 سرحدی اور ساحلی علاقوں میں بھارتی پیش قدمی کے خلاف پاکستان کی غیر متناسب جنگی صلاحیتوں کو مضبوط بناتا ہے۔یہ ایک مستقل نگرانی اور حملہ آور پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو کم سے کم نمائش کے ساتھ متحرک اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔توپخانے، یو اے ویز اور کروز میزائل سسٹمز کے ساتھ مل کر YALGHAR تہہ دار درست اسٹرائیک صلاحیت پیدا کرتا ہے، جو جوہری حدوں کو عبور کیے بغیر روایتی ڈیٹرنس کو مضبوط بناتا ہے۔

برآمدی امکانات اور علاقائی اثرات
GIDS ان سسٹمز کو عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ برآمدی ورژن عالمی ضوابط کے مطابق کم رینج کے حامل ہوں گے۔SMASH اور YALGHAR پاکستان کو اُن چند ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں جو مقامی طور پر تیار کردہ ہائپرسانک اور لوئٹرنگ سسٹمز مسابقتی قیمتوں پر پیش کر رہے ہیں۔تزویراتی طور پر ان سسٹمز کی نمائش بھارت اور دیگر علاقائی طاقتوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستان کی مقامی درست اسٹرائیک اور غیر متناسب صلاحیتیں مسلسل ترقی کر رہی ہیں۔

خلاصہ
SMASH اور YALGHAR-200 کی رونمائی پاکستان کی دفاعی صنعت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے، جو تکنیکی مہارت اور تزویراتی بصیرت کی عکاسی کرتی ہے۔
بھارت۔پاکستان تناظر میں یہ سسٹمز:بھارت کے خلاف بحری اور ساحلی ڈیٹرنس کو مضبوط بناتے ہیں۔روایتی بھارتی برتری کا مقابلہ کرنے کے لیے غیر متناسب ذرائع فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان کو مقامی دفاعی ٹیکنالوجی برآمد کرنے والے ملک کے طور پر مضبوط بناتے ہیں، جس سے معاشی اور تزویراتی اثرورسوخ میں اضافہ ہوتا ہے۔ان صلاحیتوں کے ذریعے پاکستان علاقائی سلامتی کے حوالے سے متوازن حکمتِ عملی کا مظاہرہ کر رہا ہے، جس میں ڈیٹرنس، درست اسٹرائیک اور برآمدی امکانات کو یکجا رکھتے ہوئے کشیدگی کی حدوں پر کنٹرول برقرار رکھا گیا ہے۔

More posts