گوجرخان (قمرشہزاد) سوشل میڈیا کی چکاچوند کے پیچھے چھپا بھیانک چہرہ آخرکار بے نقاب ہو گیا۔ گزشتہ دنوں ہاوسنگ سکیم ٹو گوجرخان سے ملنے والی نعش آٹھ بچوں کی ماں، 43 سالہ نعمانہ افضل کے اندھے قتل کا معمہ حل ہوگیا اور پولیس تھانہ گوجرخان نے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا۔
یہ لرزہ خیز واردات ٹک ٹاک پر ہونے والی دوستی، جھوٹے وعدوں اور ہوسِ زر کا ہولناک انجام ثابت ہوئی۔ پولیس کے مطابق لکی مروت کی رہائشی مقتولہ کی دوستی ملائشیا میں مقیم گوجرخان کے 32 سالہ شادی شدہ شخص عدنان اختر سے سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک کے ذریعے ہوئی۔ مسلسل رابطوں نے دوستی کو محبت کا رنگ دیا، مگر اس کہانی کی بنیاد خلوص نہیں بلکہ مفاد، دھوکہ اور استحصال تھا۔ ملزم نہ صرف خاتون سے رقوم بٹورتا رہا بلکہ ملائشیا سے غیر قانونی سرگرمیوں پر ڈیپورٹ ہونے کے بعد بھی اسے مالی طور پر استعمال کرتا رہا۔ ذرائع کے مطابق عدنان مختلف اوقات میں لکی مروت جا کر مقتولہ سے ملاقاتیں کرتا رہا۔ جب قربتیں بڑھیں تو نعمانہ نے اس پر اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے کر شادی کرنے کا دباؤ ڈالنا شروع کیا۔
یہی مطالبہ اس کے لیے موت کا پروانہ بن گیا۔ قتل سے ایک روز قبل ملزم عدنان، نعمانہ کو لکی مروت سے گاڑی میں گوجرخان لے آیا اور مختلف مقامات پر گھماتا رہا۔ بعدازاں اس نے اپنے دوست کامران کے ساتھ مل کر سفاک منصوبہ بنایا اور گاڑی کے اندر ہی خاتون کو دم گھونٹ کر قتل کر دیا۔ ملزمان نے نعش کو ہاؤسنگ سکیم ٹو، اقراء کالج کے قریب سڑک کنارے پھینکا اور فرار ہوگئے۔ اندھے قتل کی اس واردات کا اے ایس پی سید دانیال حسن نے پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا۔ نادرا ریکارڈ سے شناخت کے بعد مقتولہ کے اہلخانہ کو طلب کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ وہ دو روز سے لاپتہ تھی۔ ایس ایچ او گوجرخان طیب ظہیر بیگ اور ایچ آئی یو ٹیم نے مقتولہ کے موبائل رابطوں کی چھان بین کی تو عدنان اختر تک رسائی ہوئی۔ شاملِ تفتیش کرنے پر ملزم کے بیانات نے پوری سازش کو بے نقاب کردیا۔ عدنان نے اپنے ساتھی کامران کے ساتھ مل کر قتل کا اعتراف کرلیا ہے، جبکہ شریک ملزم تاحال مفرور ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کی تباہی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر اندھی محبت اور دھوکے کے بڑھتے رجحان پر بھی ایک خطرناک سوالیہ نشان ہے۔ آٹھ بچوں کی ماں کو جھوٹے وعدوں، مالی استحصال اور بے رحمانہ سازش کا نشانہ بنایا گیا اور آخرکار اس کی سانسیں بھی چھین لی گئیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور مفرور ملزم کو بھی جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔
