Baaghi TV

قلم کی حرمت اور مجبور خاموشیاں،تحریر: آمنہ خواجہ

معاشرے میں صحافت کو ہمیشہ سچ کی آواز اور مظلوم کی ڈھال سمجھا گیا ہے۔ اخبار کے صفحات کو وہ مقدس جگہ مانا جاتا ہے جہاں حقائق بولتے ہیں اور انصاف کی امید جاگتی ہے۔ مگر جب یہی صفحات کچھ لوگوں کے لیے ذاتی مفادات اور ناجائز تقاضوں کا ذریعہ بن جائیں تو نہ صرف صحافت کی روح مجروح ہوتی ہے بلکہ انسانیت بھی شرمندہ ہو جاتی ہے۔
آج بھی ہمارے معاشرے میں کئی ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں خبریں شائع کروانے کے خواہشمند افراد خصوصاً خواتین کو غیر اخلاقی تعلقات یا ناجائز مطالبات ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ محض ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا المیہ ہے۔ خبر شائع کروانا ایک حق ہے کوئی سودا نہیں۔ مگر جب اس حق کو بلیک میلنگ کا ہتھیار بنا دیا جائے تو متاثرہ شخص کی عزت خودداری اور اعتماد سب کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔

سوچیے، ایک بیوہ ماں اپنے بیٹے کے قاتلوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے اخبار کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، ایک طالبہ ہراسانی کے خلاف ثبوت لے کر آتی ہے یا ایک غریب مزدور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی داستان سنانا چاہتا ہے۔ایک قلم کار اپنے قلم سے عوام میں شعور اجاگر کرنا چاہتی ہے اسکو اپنی حوس مٹانے پر مجبور کرنے کی آبیتی بیان کرنا چاہتی ہے یہ لوگ انصاف کی امید لے کر آتے ہیں مگر اگر ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان کی مجبوریوں کا سودا کیا جائے تو یہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے معاشرے کی شکست ہے۔

یہ مسئلہ صرف اخلاقی گراوٹ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی جرم ہے۔ ایسے رویے متاثرہ افراد کو خاموشی پر مجبور کر دیتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر انصاف مانگنے کی قیمت عزت ہو تو پھر خاموشی ہی بہتر ہے۔ یوں ظلم بڑھتا جاتا ہے اور سچ دب کر رہ جاتا ہے۔

صحافت کا اصل مقصد طاقتور کو جوابدہ بنانا اور کمزور کو آواز دینا ہے۔ ایک سچا صحافی اپنے قلم کو امانت سمجھتا ہے نہ کہ ذاتی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ۔ جو لوگ اس مقدس پیشے کو بدنام کرتے ہیں، وہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے شعبے کا اعتماد کھو دیتے ہیں۔ ان کے سبب وہ بے شمار دیانتدار صحافی بھی مشکوک نگاہوں سے دیکھے جانے لگتے ہیں جو واقعی حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا ادارے اپنے اندر سخت احتسابی نظام قائم کریں۔ شکایات کے لیے محفوظ اور خفیہ راستے فراہم کیے جائیں تاکہ متاثرہ افراد بلا خوف اپنی بات رکھ سکیں۔ ساتھ ہی عوام کو بھی یہ شعور دیا جائے کہ وہ اپنے حقوق سے آگاہ رہیں اور کسی بھی ناجائز مطالبے کے سامنے جھکنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں۔
یہ وقت ہے کہ ہم قلم کی حرمت کو بچائیں سچ کی آواز کو مضبوط کریں اور ان مجبور خاموشیوں کو زبان دیں جو خوف اور بلیک میلنگ کے سبب دب جاتی ہیں۔ کیونکہ جب خبر چھپتی نہیں بلکہ بیچی جانے لگے تو صرف صحافت نہیں مرتی، معاشرہ بھی اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔
آخر میں ایک سوال ہم سب کے لیے:
کیا ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں انصاف کی قیمت عزت ہو؟
جہاں عورت کو حوس بجھانے کا نا سمجھا جائے ؟
یا ایسا جہاں سچ بولنا جرم نہ ہو اور خبر شائع کروانا کسی کی خودداری کا سودا نہ بنے؟
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔

More posts