ایک انتہائی چونکا دینے والی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس (موساد) نے گزشتہ چند برسوں کے دوران ایران کی عسکری اور حکومتی اشرافیہ کے اندر اپنے ایجنٹس کو ‘ڈاکٹرز’ اور ‘ڈینٹسٹس’ کے روپ میں داخل کر رکھا تھا۔ خفیہ اطلاعات کے مطابق، ان ایجنٹس نے دانتوں کے معائنے کے دوران مبینہ طور پر جدید ترین ٹریکنگ ڈیوائسز دانتوں کی فلنگ (Cavity fillings) میں چھپا دیں، جبکہ گیسٹرو انٹرولوجسٹس نے بھی اپنے مریضوں کو اسی طرح کے ٹریکرز لگائے۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس انٹیلی جنس نیٹ ورک کی بدولت اسرائیل کو ایرانی قیادت کی نقل و حرکت کی درست معلومات حاصل ہوئیں، جس میں خامنہ ای کے اہل خانہ اور دیگر اہم شخصیات کے ٹھکانے شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق، جنگ کے ابتدائی لمحات میں کیے گئے میزائل حملوں میں اسی ٹریکنگ ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے 400 سے زائد اعلیٰ فوجی اور حکومتی اہلکاروں کو ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا۔ یہ دعویٰ اگر سچ ثابت ہوتا ہے تو یہ تاریخ کی سب سے پیچیدہ اور خطرناک انٹیلی جنس کارروائیوں میں سے ایک سمجھی جائے گی۔
انٹیلی جنس کا تہلکہ خیز دعویٰ: ایرانی قیادت میں ‘ڈاکٹرز’ کے روپ میں موساد کے ایجنٹوں کی دراندازی
