وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے دوران اب تک 1979 افراد تفتان بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ چکے ہیں جن میں 37 سفارتکار بھی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایران میں جاری کشیدہ حالات کے باعث حکومت بلوچستان کی تمام متعلقہ مشینری کو الرٹ رکھا گیا ہے جبکہ پاکستان ایران سرحد کے ذریعے پاکستانی شہریوں اور غیر ملکیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطابق تفتان بارڈر پر آنے والے تمام افراد کو ضروری سہولیات اور معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک مجموعی طور پر 1979 افراد اس سرحدی راستے سے پاکستان میں داخل ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے بیان میں کہا ہے کہ ایران میں موجود وہ پاکستانی شہری جو وطن واپس آنا چاہتے ہیں فوری طور پر پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہری تہران میں پاکستانی سفارتخانے یا مشہد اور زاہدان کے قونصل خانوں سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔
مدثر ٹیپو کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اس لیے پاکستانی شہری بروقت رابطہ کریں تاکہ ان کے محفوظ اور جلد انخلا کو یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں ایران سے پاکستانیوں کے انخلا کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ایران سے پاکستانی شہری محفوظ طریقے سے وطن واپس پہنچ رہے ہیں جبکہ آذربائیجان میں پاکستانی سفارتخانہ بھی مکمل طور پر متحرک ہے۔وزیراعظم نے اس حوالے سے آذربائیجان کی مدد پر اظہار تشکر بھی کیا۔
ایران سے 1979 افراد تفتان کے راستے پاکستان پہنچ گئے، 37 سفارتکار بھی شامل
