امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں “شامل ہونا چاہیے”، جبکہ انہوں نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کی ممکنہ جانشینی کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ خامنہ ای کے بیٹے کو ایران کی قیادت کے لیے زیر غور لانا “وقت کا ضیاع” ہے اور وہ اس عہدے کے لیے موزوں نہیں۔ انہوں نے کہا “خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے قابل قبول نہیں۔ ہم ایران میں ایسا رہنما چاہتے ہیں جو ہم آہنگی اور امن لائے۔”ایران کے نئے سپریم لیڈر کی تقرری میں امریکہ کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس معاملے کا موازنہ وینزویلا کی سیاست سے کرتے ہوئے کہا کہ جیسے امریکہ نے Delcy Rodríguez کے اقتدار میں آنے کے معاملے میں کردار ادا کیا، ویسا ہی کردار ایران کے معاملے میں بھی ہونا چاہیے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران میں ایسا رہنما منتخب کیا گیا جو سابق پالیسیوں کو جاری رکھے تو امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ جنگ کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال “پانچ سال کے اندر ایک اور جنگ” کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس نے ایک روز قبل اشارہ دیا تھا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کا بنیادی مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں ہے۔ تاہم ٹرمپ کے تازہ ریمارکس سے خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کی آئندہ قیادت کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔دوسری جانب ایران کی قیادت کی جانب سے ابھی تک نئے سپریم لیڈر کے بارے میں باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جبکہ ایرانی سیاسی و مذہبی حلقوں میں مختلف نام زیر غور بتائے جا رہے ہیں۔
