مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات نے جنوبی کوریا سے جدید فضائی دفاعی نظام Cheongung-II surface-to-air missile system کی جلد از جلد فراہمی کی درخواست کر دی ہے۔
حکام کے مطابق یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی جانب سے خطے میں مختلف اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یو اے ای نے جنوبی کوریا سے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت فراہم کیے جانے والے Cheongung-II میزائل بیٹریوں کی ترسیل کے شیڈول کو تیز کیا جائے تاکہ ملک کو ممکنہ حملوں سے بہتر طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ نظام پہلے ہی یو اے ای کے جامع فضائی دفاعی نیٹ ورک میں شامل کیا جا چکا ہے۔ جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ اور دفاعی حکام کے مطابق یو اے ای میں نصب Cheongung-II نظام نے حالیہ حملوں کے دوران تقریباً 96 فیصد کامیابی کے ساتھ میزائلوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ جنوبی کوریا کی قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی کے رکن Yu Yong-weon نے اس کارکردگی کو نظام کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی دفاعی منڈی میں اس سسٹم کی مانگ مزید بڑھ سکتی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایرانی قیادت نے جوابی کارروائیاں شروع کیں۔ ابتدائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی، جس کے بعد ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں اور دیگر مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے کی،ان حملوں میں بعض شہری تنصیبات، بشمول ہوائی اڈوں اور ہوٹلوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں،یو اے ای نے 2022 میں تقریباً 3.5 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت جنوبی کوریا کی دفاعی کمپنیوں سے Cheongung-II نظام کی 10 بیٹریاں خریدنے کا معاہدہ کیا تھا، جن میں سے اب تک دو بیٹریاں نصب کی جا چکی ہیں،بعد ازاں سعودی عرب اور عراق نے بھی اس دفاعی نظام کی خریداری کے لیے بالترتیب 3.2 ارب ڈالر اور 2.8 ارب ڈالر کے معاہدے کیے۔
جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ دفاعی معاہدوں اور پیداوار کے شیڈول کے باعث بیٹریوں کی ترسیل کو تیز کرنا آسان نہیں۔ تاہم یو اے ای نے متبادل طور پر یہ تجویز بھی دی ہے کہ اگر مکمل بیٹریاں فوری فراہم نہیں کی جا سکتیں تو کم از کم انٹرسیپٹر میزائل پہلے فراہم کیے جائیں تاکہ دفاعی صلاحیت کو فوری طور پر مضبوط کیا جا سکے۔
Cheongung-II ایک درمیانی فاصلے کا زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل نظام ہے جو بیلسٹک میزائلوں اور جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک بیٹری میں چار لانچر، جدید ریڈار اور فائر کنٹرول سینٹر شامل ہوتا ہے۔اس کا انٹرسیپٹر میزائل تقریباً 400 کلوگرام وزن رکھتا ہے اور Hit-to-Kill ٹیکنالوجی کے ذریعے ہدف کو براہِ راست ٹکر مار کر تباہ کرتا ہے۔ یہ نظام 15 کلومیٹر سے زیادہ بلندی اور تقریباً 20 کلومیٹر فاصلے تک بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ طیاروں کے خلاف اس کی رینج 50 کلومیٹر تک ہے۔دفاعی صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور اس کے مخالف ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار رہی تو فضائی دفاعی نظاموں کی عالمی طلب میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں Cheongung-II کی کامیاب کارکردگی اسے عالمی دفاعی منڈی میں ایک مضبوط امیدوار بنا سکتی ہے۔
