خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع جنوبی وزیرستان اور لکی مروت میں دہشتگردی کے 2 الگ واقعات میں پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 4 افراد شہید جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق جنوبی وزیرستان اور لکی مروت میں 2 الگ دھماکے ہوئے جس کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات اور سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے-
ڈسٹرکٹ پولیس افسر جنوبی وزیرستان محمد طاہر شاہ نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں افطاری سے کچھ دیر قبل ایک بم دھماکہ ہوا جس میں 3 افراد شہید ہو گئے، جن میں 2 پولیس اہلکار جبکہ ایک شہری شامل ہے,دھماکہ نصب بم کے پھٹنے سے ہوا جو ایک پولیس موبائل وین کے قریب ہوا اور اس کا نشانہ پولیس اہلکار تھے۔
حالیہ صورتحال نے عالمی معیشت کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے،احسن اقبال
ڈی پی او کے مطابق دھماکے میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق 6 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے,دھماکے کے وقت لوگ افطاری کے لیے خریداری میں مصروف تھے جبکہ پولیس موبائل معمول کی گشت پر تھی واقعے کےبعد علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہےجبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا ہے۔
پیٹرولیم قیمتوں کے حوالے سے اہم مشاورت، وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات
دوسرا واقعہ لکی مروت میں پیش آیا جہاں ایک مقامی امن کمیٹی کے رکن کے بھائی کی دکان میں دھماکہ ہوا, پولیس کے مطابق اس واقعے میں ایک شخص شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے بعد ازاں مجموعی طور پر دونوں واقعات میں شہدا کی تعداد 4 جبکہ زخمیوں کی تعداد 20 سے زائد بتائی گئی ہے لکی مروت کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ دھماکہ نصب بم کے ذریعے کیا گیا یا کواڈ کاپٹر استعمال کیا گیا۔
پیٹرولیم قیمتوں کے حوالے سے اہم مشاورت، وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وانا میں آئی ای ڈی دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے آئی جی پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے, سہیل آفریدی نے واقعے میں پولیس اہلکاروں اور شہریو ں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔
