Baaghi TV

افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف

افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف سامنے آیا ہے-

مختلف سفارتی ماہرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ افغان رجیم نے ٹی ٹی پی سمیت مختلف دہشتگرد تنظیموں کے اہم کمانڈروں کو کابل میں موجود گرین زور، خصوصاً ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دے رکھی ہے تاکہ انہیں محفوظ رکھا جاسکے پاکستان کے معروف صحافی حامد میر نے بھی گزشتہ روز ٹویٹ میں کہا کہ کچھ سفار تی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کابل کے گرین زون، خاص طور پر وزیر اکبر خان علاقے میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی، گل بہادر، بشیر زیب اور دیگر مطلوب دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں، ذرائع کے مطابق ان کا قیام سفارتی علاقے کے قریب خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے اور کئی بین الاقو امی سفارت کار جلد کابل چھوڑ سکتے ہیں۔

سیکیورٹی اور علاقائی ماہرین کے مطابق طالبان نے 1990 کی دہائی میں اپنی سابقہ جنگی حکمت عملی کی طرح دہشت گردوں کو ایسے علاقوں میں رکھا ہے جہاں حملہ کرنا دیگر ممالک کے لیے سیاسی اور سفارتی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ماضی میں طالبان نے جرمن کلب جیسے بین الاقوامی کمپاؤنڈز میں قیام کر کے اپنے رہنماؤں کو محفوظ بنایا تھا۔

ایران کو یقینا فتح ہوگی، روسی فوجی ماہر کی پیشگوئی

افغان طالبان کے قائم مقام وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے ٹی ٹی پی اراکین کو پناہ لینے والے قرار دیا اور کہا کہ یہ دہشت گرد نہیں بلکہ مہاجر ہیں، تاہم بین الاقوامی سطح پر ٹی ٹی پی کو دہشت گرد گروہ تسلیم کیا گیا ہے، جس پر اقوام متحدہ، امریکا اور دیگر ممالک نے انہیں پاکستان میں ہونے والے حملوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں، جن میں القاعدہ، داعش خراسان، آئی ایم یو، ای ٹی آئی ایم اور دیگر شامل ہیں، ان کے تربیتی کیمپ اور نیٹ ورکس مختلف صوبوں میں موجود ہیں۔

ایران کیخلاف امریکا واسرائیل جنگ:چین کا خصوصی ایلچی ثالثی کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا

سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی خطے کے لیے خطرہ ہے، خاص طور پر پاکستان، چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے۔ بین الاقوامی تعاون اور مضبوط انسداد دہشت گردی حکمت عملی کے بغیر افغانستان دوبارہ علاقائی اور عالمی دہشت گردوں کا گڑھ بن سکتا ہے طالبان کی جانب سے ان گروہوں کو پناہ دینا اور ان کی موجودگی کو مہاجرین کے طور پر پیش کرنا خطے میں تشویش اور سفارتی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

More posts