Baaghi TV

ایران مزید اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کرے،ترک صدر

Erdogan

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردگان نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ مزید “اشتعال انگیز اقدامات” سے گریز کرے، خصوصاً اس واقعے کے بعد جس میں ایک بیلسٹک میزائل مبینہ طور پر ترک فضائی حدود میں داخل ہوگیا تھا۔

ترک صدر کے مطابق ایران کو ایسے اقدامات سے باز رہنا چاہیے جو دونوں ممالک کے درمیان “ہزار سالہ ہمسائیگی اور برادرانہ تعلقات پر سایہ ڈالیں۔” انہوں نے کہا کہ ترکی کی جانب سے بارہا “مخلصانہ تنبیہات” کے باوجود ایران کی طرف سے ایسے اقدامات جاری ہیں جنہیں انقرہ انتہائی غلط اور اشتعال انگیز سمجھتا ہے۔ترک سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ترک وزارتِ دفاع نے کہا کہ ایران سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل مختصر وقت کے لیے ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہوا۔ وزارتِ دفاع کے مطابق اسے مشرقی بحیرۂ روم میں تعینات نیٹو کے فضائی و میزائل دفاعی نظام نے ناکارہ بنا دیا۔ترک وزارتِ دفاع کے مطابق میزائل کے ٹکڑے جنوبی وسطی ترکی کے شہر Gaziantep کے قریب ایک خالی علاقے میں گرے، تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

دوسری جانب ایران نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ترکی کی جانب کوئی میزائل فائر نہیں کیا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس واقعے کو ممکنہ طور پر “فالس فلیگ آپریشن” قرار دیا، تاہم انہوں نے کسی مخصوص ملک پر الزام عائد نہیں کیا۔

صدر اردوان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے آغاز کے بعد سے ترک مسلح افواج مکمل الرٹ پر ہیں اور ملک کی فضائی حدود کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نگرانی کے لیے F-16 Fighting Falcon طیارے، فضائی وارننگ طیارے اور ٹینکر طیارے چوبیس گھنٹے فعال ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کو اب نو دن گزر چکے ہیں، جس کے بعد تہران کی جوابی کارروائیوں نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔اسی دوران اسرائیل نے گزشتہ پیر سے لبنان پر بھی شدید بمباری شروع کر رکھی ہے۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق ان حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق آج جنوبی لبنان میں اسرائیلی ٹینک فائرنگ سے ایک پادری بھی ہلاک ہوگیا۔

28 فروری سے جاری اس تنازع میں مختلف ممالک میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد درج ذیل بتائی جا رہی ہے

ایران
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران میں کم از کم 1,205 شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 194 بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 187 فوجی اہلکار بھی مارے گئے۔

لبنان:
اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 486 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران دو اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے۔

عراق:
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں 13 ارکان Popular Mobilization Forces کے مارے گئے۔ اس کے علاوہ تین ایرانی کرد جنگجو اور کردستان ریجنل گورنمنٹ کا ایک سیکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوا۔

کویت:
کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے جن میں چھ امریکی فوجی اور دو کویتی فوجی شامل ہیں۔

اسرائیل:
ایران کے میزائل حملوں میں 11 افراد مارے گئے، جن میں سے 9 افراد شہر بیت شمش میں ایک رہائشی عمارت پر براہِ راست میزائل گرنے سے ہلاک ہوئے۔

متحدہ عرب امارات:
ایرانی ڈرون حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے جبکہ دبئی میں میزائل کے ملبے سے ایک پاکستانی شہری بھی جاں بحق ہوا۔

سعودی عرب:
فوجی گولہ گرنے سے دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ امریکی فوجی اڈے پر حملے میں زخمی ہونے والا ایک امریکی فوجی بعد میں دم توڑ گیا۔

بحرین:
ایک غیر ملکی جہاز پر میزائل کے ملبے سے لگنے والی آگ کے باعث ایک شخص ہلاک ہوا۔

عمان:
عمانی ساحل سے دور ایک آئل ٹینکر پر ڈرون بوٹ حملے میں ایک بھارتی شہری جان سے گیا۔

More posts