ایران نے کہا ہے کہ اس نے آپریشن “سچا وعدہ 4” کی 33ویں لہر کا آغاز کر دیا ہے، جس میں اسرائیل اور امریکی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی عسکری ذرائع کے مطابق اس کارروائی کو “لبیک یا خامنہ ای” کے کوڈ نام سے انجام دیا گیا۔ایرانی بیان کے مطابق اس حملے میں بڑی تعداد میں خیبر شکن بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے، جو ٹھوس ایندھن سے چلنے والے جدید میزائل ہیں اور ہر میزائل میں تقریباً ایک ٹن وزنی وارہیڈ نصب تھا۔ایرانی حکام کے مطابق اس مرحلے میں اسرائیل کے مرکزی شہر تل ابیب کو نشانہ بنایا گیا اور کم از کم 10 سے زائد خیبر شکن میزائل شہر اور اس کے اطراف میں گرے۔ ایرانی بیان میں کہا گیا کہ “مقبوضہ علاقوں میں سائرن مسلسل بجتے رہیں گے۔”
میزائل اسرائیلی دفاعی نظام کو عبور کرتے ہوئے اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے،
ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے مطابق اس کارروائی میں امریکی اور اسرائیلی فوجی مراکز کو بھی ہدف بنایا گیا، جن میں مقبوضہ علاقوں میں “ریحوام” نامی جنگی معاونت یونٹ،امریکی بیس 512 پر قائم ابتدائی وارننگ ریڈار اسٹیشن شامل ہیں۔کویت میں امریکی اڈے پر ڈرون اور میزائل حملہ کیا گیا ہے،ایرانی بیان کے مطابق بحریہ نے آج علی الصبح مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کویت میں واقع العدیری امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ڈرونز اور کروز میزائل استعمال کیے گئے اور یہ کارروائی امریکی فوج کے ہیلی کاپٹر بیس اور اسلحہ کے گوداموں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی۔
