مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تیل منڈی میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں جس سے روس کو نمایاں معاشی فائدہ ہو رہا ہے۔
برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ایران سے متعلق جنگی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے بعد روسی تیل کی عالمی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں روس کو تیل کی فروخت سے یومیہ تقریباً 150 ملین ڈالر اضافی آمدن حاصل ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت اور چین روسی تیل کے بڑے خریدار بن کر سامنے آئے ہیں۔ خاص طور پر بھارت کی روس سے تیل کی درآمدات بڑھ کر تقریباً 1.5 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہیں، جو ایک ماہ کے دوران تقریباً 50 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ تیل کی برآمدات پر عائد ٹیکس کی بدولت روس کو اب تک 1.3 سے 1.9 ارب ڈالر تک غیر متوقع اضافی فائدہ حاصل ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر عالمی منڈی میں قیمتیں اسی طرح برقرار رہیں تو مارچ کے مہینے میں روس کو مجموعی طور پر 3.3 سے 4.9 ارب ڈالر تک اضافی آمدن ہونے کا امکان ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے روس کو بڑا فائدہ، تیل سے یومیہ 150 ملین ڈالر اضافی آمدن
