ترک وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ترکیہ نے ایران کی جانب سے ترک سرزمین کی طرف میزائل فائر کرنے کی تردید کو چیلنج کر دیا ہے اور اس حوالے سے انقرہ کے پاس تکنیکی شواہد موجود ہیں جو ایرانی مؤقف سے متصادم ہیں۔
دارالحکومت انقرہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے بتایا کہ ترک حکام نے میزائل لانچنگ سے متعلق مفصل تکنیکی ڈیٹا اور شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ڈیٹا کی روشنی میں ایران کی جانب سے میزائل فائر نہ کرنے کا دعویٰ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ترکیہ اس معاملے پر ایران کے حکام کے ساتھ باضابطہ رابطے میں ہے اور ان سے ان تضادات کی وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے کیونکہ یہ علاقائی سلامتی اور خودمختاری سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیہ کی سیکیورٹی اور دفاعی اداروں نے میزائلوں کی پرواز، سمت اور ممکنہ لانچ پوائنٹس سے متعلق معلومات حاصل کی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ میزائل ترک حدود کی جانب فائر کیے گئے تھے۔ تاہم انہوں نے میزائلوں کی تعداد یا ان کے درست مقام کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس نے ترکیہ کی سرزمین کی طرف کوئی میزائل فائر نہیں کیا اور ایسے الزامات بے بنیاد ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس کے فوجی اقدامات مخصوص اہداف تک محدود ہوتے ہیں اور وہ ہمسایہ ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے۔
