خلیج ہرمز کے حساس علاقے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جہاں امریکی فوج نے ایرانی میزائل تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے طاقتور فضائی حملہ کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی میں جدید اور انتہائی تباہ کن ’بنکر بسٹر‘ بم استعمال کیے گئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے میں تقریباً 5000 پاؤنڈ (2,268 کلوگرام) وزنی گہرائی تک تباہی پھیلانے والے بم استعمال کیے گئے، جن کا ہدف ساحلی علاقوں میں قائم مضبوط ایرانی میزائل اڈے تھے۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان مقامات پر نصب ایرانی اینٹی شپ کروز میزائل بین الاقوامی بحری جہاز رانی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے تھے، جس کے باعث یہ کارروائی ناگزیر ہو گئی۔ذرائع کے مطابق یہ حملہ خلیج ہرمز میں بحری آمد و رفت کو بحال کرنے کی جانب پہلی بڑی فوجی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جہاں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی ترسیل بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد خطے میں مزید کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ ایران کی جانب سے ممکنہ ردعمل بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
