ایران کی جانب سے خلیج فارس کے ممالک میں آج توانائی کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں راس لفان انڈسٹریل سٹی میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ ریاض میں فضائی خطرات کو ناکام بنا دیا گیا۔
یہ پیش رفت ایران کی پاسدارانِ انقلاب یعنی اسلامی انقلابی گارڈ کور کی جانب سے جاری انتباہ کے بعد سامنے آئی ہے۔قطر کی وزارتِ داخلہ کے مطابق شہری دفاع کی ٹیمیں راس لفان کے صنعتی علاقے میں لگنے والی آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں، جو ملک کی معیشت کے لیے نہایت اہم قدرتی گیس پروسیسنگ مرکز ہے۔ حکام کے مطابق یہ حملہ ایرانی جانب سے کیا گیا۔دوسری جانب قطر انرجی نے تصدیق کی ہے کہ راس لفان پر میزائل حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ کمپنی کے مطابق ہنگامی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ کو قابو کرنے کی کوششیں شروع کر دیں، جبکہ تمام عملہ محفوظ ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔قطر کی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کو “خطرناک کشیدگی، خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ” قرار دیا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ اس سے خطے کے استحکام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ادھر سعودی عرب میں وزارتِ دفاع نے بتایا کہ دارالحکومت ریاض کے اوپر آٹھ بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ تاہم ان کے ملبے کے باعث شہر کے مختلف علاقوں، خصوصاً ایک آئل ریفائنری کے قریب، نقصان پہنچا۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق چار غیر ملکی (ایشیائی) شہری زخمی ہوئے ہیں۔سعودی حکام کے مطابق مزید چھ ڈرونز کو بھی مار گرایا گیا، جن میں سے ایک مشرقی صوبے میں واقع گیس تنصیب کو نشانہ بنا رہا تھا، تاہم اسے بغیر کسی نقصان کے تباہ کر دیا گیا۔
اس سے قبل ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے مخالفین کو “سخت جواب” کی دھمکی دی تھی، اور الزام عائد کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل نے اس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں ساؤتھ پارس گیس فیلڈ بھی شامل ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا گیس فیلڈ سمجھا جاتا ہے۔IRGC نے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات میں بعض آئل تنصیبات کے قریب رہنے والے افراد اور عملے کو انخلا کی وارننگ بھی جاری کی ہے، جس سے مزید حملوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
