Baaghi TV

خلیجی ریاستوں میں توانائی کے مراکز پر مزید حملے

خلیجی خطے میں کشیدگی کے دوران توانائی کے اہم مراکز پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق کویت اور سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایران نے کویت کی مینا الاحمدی اور مینا عبداللہ آئل ریفائنریوں پر حملہ کیا ہے جس سے دونوں مقامات پر آگ بھڑک اٹھی ہے۔یہ دونوں سہولیات کویت کے ریفائننگ کے اہم مرکزوں میں سے ہیں، جن کی مشترکہ گنجائش 800000 بیرل یومیہ ہے۔دوسری جانب سعودی عرب نے بھی تصدیق کی ہے کہ بحیرہ احمر کی بندرگاہی شہر میں واقع سمرف ریفائنری کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق یانبوع کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل بھی فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کیے جانے کے بعد سعودی عرب کے لیے یانبوع بندرگاہ خام تیل کی برآمد کا اہم ترین راستہ بن چکی ہے۔

توانائی کے مراکز پر حملوں کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات بھی کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے ایران کے سب سے بڑے گیس فیلڈ South Pars Gas Field پر اسرائیلی حملے پر غیر معمولی تشویش کا اظہار کیا۔صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بنائے بغیر کہا کہ اس نے "شدید ردعمل” دیا ہے، اور واضح کیا کہ اگر ایران کی جانب سے اشتعال انگیزی نہ ہوئی تو اس گیس فیلڈ پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہوں۔ اس سے قبل بھی اسرائیل کی جانب سے ایرانی فیول ڈپوؤں پر حملوں پر امریکی حکام نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔امریکہ میں بھی اس صورتحال کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 70 فیصد امریکی ووٹرز کو خدشہ ہے کہ جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جو سیاسی طور پر بھی اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔صدر ٹرمپ اگرچہ عالمی منڈیوں پر اثرات کو کم کر کے دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر بارہا خبردار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

More posts