صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ بھارت کا مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر تشویش ہے۔
عالمی یومِ آب کے موقع پر پیغام صدر مملکت کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر مذمت کا اعادہ کرتے ہیں، ہائیڈرولو جیکل ڈیٹا شیئرنگ میں خلل پر تحفظات ہیں سندھ طاس معاہدہ خطے میں پانی کی منصفانہ تقسیم کا ضامن ہے، بھارت سے معاہدے پر مکمل عمل درآمد بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
صدر نے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام نہ صرف معاہدے کی روح کے خلاف ہے بلکہ اس سے خوراک اور معیشت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں انہوں نے خبردار کیا کہ اس عمل سے لاکھوں افراد کے روزگار متاثر ہو سکتے ہیں اور بین الاقوامی قوانین کے تحت سرحدی وسائل کے انتظام کے لیے خطرناک مثال قائم ہوگی،اس سال عالمی یومِ آب کا موضوع ’پانی اور صنف‘ ہے، جو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پانی کی کمی کا بوجھ خواتین اور بچیوں پر زیادہ پڑتا ہے۔
ایران کے عراد، دیمونا پر حملوں کو نیتن یاہو نے ’انتہائی مشکل شام‘ قرار دیا
صدر کے مطابق صاف پانی اور صفائی تک رسائی آئینی حق ہے اور حکومت کو اس کی فراہمی کو ترجیح دینا ہوگی، اس کے لیے پانی کے وسائل کے بہتر انتظا م اور خواتین کی شمولیت ضروری ہے انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے جیسے اقدامات اپنائیں تاکہ زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر ہو سکےبڑھتی آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پانی کے وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے پانی کے استعمال میں احتیاط ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ1960 میں ورلڈ بینک کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب پاکستان جبکہ راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حصے میں آئے تھے،جون 2025 میں مستقل عدالت برائے ثالثی نے واضح کیا تھا کہ بھارت یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل نہیں کر سکتا۔
