ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اسلام آباد مذاکرات کے لیے نامزد ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے آغاز سے قبل بعض اہم معاملات پر عمل درآمد ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان پہلے سے طے شدہ نکات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ دو اہم معاملات ایسے ہیں جن پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے اثاثوں کی بحالی ایسے بنیادی نکات ہیں جنہیں نظر انداز کر کے مذاکرات کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔
قالیباف کے مطابق ان امور کا حل مذاکرات سے پہلے ہونا چاہیے تاکہ بات چیت ایک واضح اور مضبوط بنیاد پر شروع ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ مسائل حل نہ کیے گئے تو مذاکرات کا عمل مؤثر نہیں ہو پائے گا۔
ماہرین کے مطابق ایران کا یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ مذاکرات میں داخل ہونے سے پہلے اپنی شرائط کو یقینی بنانا چاہتا ہے، تاکہ بعد میں کسی قسم کی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کے لیے عالمی توجہ مرکوز ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی یہ شرائط مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں، تاہم یہ بھی واضح ہے کہ تہران اپنی پوزیشن کو مضبوط رکھتے ہوئے کسی بھی بات چیت میں شامل ہونا چاہتا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں جاری سفارتی سرگرمیاں نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور ہر فریق اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔
مذاکرات سے پہلے شرائط پوری کرنے کا مطالبہ:ایران کا دوٹوک مؤقف
