اسلام آباد میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان اہم سفارتی مذاکرات کے پہلے مرحلے کے اختتام پر دونوں وفود نے زیرِ بحث امور سے متعلق تحریری مسودوں کا تبادلہ کیا ہے۔ ایرانی حکومت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات اب “ماہرین کی سطح” میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں اقتصادی، عسکری، قانونی اور جوہری معاملات پر خصوصی کمیٹیاں ایک دوسرے کے ساتھ تفصیلی بات چیت کر رہی ہیں۔بیان کے مطابق مذاکرات کا مقصد اب تکنیکی نکات کو حتمی شکل دینا ہے
اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کا پہلا دور مکمل، اہم معاملات پر پیشرفت کی اطلاعات ہیں،پہلا مرحلہ دو گھنٹے جاری رہا، کھانے کا وقفہ ہوا، دوبارہ پھر مذاکرات شروع ہوئے، دونوں فریقین نے انتہائی سخت مطالبات سے آغاز کیا، کئی اہم معاملات میں پیشرفت ہوئی، لبنان جنگ بندی، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات چیت میں مثبت اشارے ملے،
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق اسلام آباد پہنچنے والے ایرانی وفد میں مجموعی طور پر 71 افراد شامل ہیں، جن میں اعلیٰ مذاکرات کار، جوہری ماہرین، قانونی مشیران، میڈیا نمائندگان اور سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی وفد بھی متعلقہ شعبوں کے مکمل ماہرین کے ساتھ پاکستان پہنچا ہے، جبکہ واشنگٹن سے مزید ماہرین بھی آن لائن اور سفارتی سطح پر معاونت فراہم کر رہے ہیں۔امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیراڈ کشنر بھی موجود ہیں۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری فہرست کے مطابق نائب صدر کے قومی سلامتی کے مشیر اینڈریو بیکر اور ایشیائی امور کے خصوصی مشیر مائیکل وینس بھی مذاکرات میں شریک ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ سہ فریقی مذاکرات امریکہ، ایران اور پاکستان کے درمیان آمنے سامنے جاری ہیں، جہاں پاکستان ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستانی ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی مذاکراتی عمل میں موجود ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اس عمل کو نہایت سنجیدگی سے لے رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مذاکرات اتوار تک بھی جاسکتے ہیں۔اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے اور دنیا بھر کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے، اقتصادی پابندیوں کے معاملات حل ہونے اور عالمی توانائی منڈی میں استحکام آنے کی امید کی جا رہی ہے۔
