Baaghi TV

نورپور شاہاں میں سی ڈی اے کا بڑا آپریشن، 300 ایکڑ سرکاری زمین واگزار

سی ڈی اے کی جانب سے غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری ہے

نورپور شاہان میں قانونی اور شفاف آپریشن کے ذریعے اربوں روپے مالیت کی سرکاری زمین واگزار کرا لی گئی، جس سے دہائیوں پر محیط غیر قانونی قبضے اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ ہوا۔600 ایکڑ پر مشتمل قبضہ شدہ علاقے میں سے 300 ایکڑ زمین واپس حاصل کر لی گئی، جبکہ 3,500 سے زائد غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کر کے قانون کے مطابق کارروائی شروع کر دی گئی۔یہ زمین 1961 تا 1964 کے دوران مکمل معاوضے، نقد رقم اور متبادل زمین کی فراہمی کے ساتھ قانونی طور پر حاصل کی گئی تھی، جس سے تمام دعوے دہائیوں پہلے ہی نمٹا دیے گئے تھے۔ازخود نوٹس کیس نمبر 1 برائے 2011 میں واضح کیا گیا کہ حاصل شدہ زمین مکمل طور پر ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور قابضین کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں۔

تمام قانونی تقاضے مکمل کیے گئے، دعوے طلب کیے گئے، سماعتیں ہوئیں، اور 19 جنوری 2026 کو تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا، جس کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی۔آپریشن نومبر 2025 سے اپریل 2026 تک پیشگی نوٹس کے ساتھ کیا گیا، رہائشیوں کو اپنے سامان، چھتیں، حتیٰ کہ لوہے کے ڈھانچے خود ہٹانے کے لیے وقت دیا گیا، اس کے بعد مشینری استعمال کی گئی۔زمینی شواہد سے ظاہر ہوا کہ قابضین نے کئی مواد رضاکارانہ طور پر خود ہٹایا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کارروائی مرحلہ وار، انسانی ہمدردی پر مبنی اور پیشگی اطلاع کے ساتھ کی گئی۔تجاوزات میں غیر قانونی فروخت، کرایہ داری اور تجارتی استعمال شامل تھا، جبکہ ذمہ دار افراد کے خلاف ایف آئی آرز درج کر دی گئی ہیں۔ماڈل ولیج (1985) کو مکمل طور پر محفوظ رکھا گیا، کارروائی صرف اس کی مقررہ حدود سے باہر موجود غیر قانونی تجاوزات تک محدود رہی۔

سی ڈی اے، اسلام آباد انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس نے باہمی تعاون سے ریاستی رٹ بحال کرنے اور عوامی اثاثوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کی۔ غیر قانونی زمینوں پر قبضہ اور متوازی جائیداد بازار کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے، قانون کی حکمرانی قائم رہے گی۔

More posts